بے شرم سعودی نوجوان اپنی بہن کو مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتا رہا

19 سالہ لڑکی نے ہمت کر کے جب والدین کو شکایت لگائی تو انہوں نے اُلٹااس کی مار پیٹ کر کے کہا کہ وہ زبان بند رکھے ورنہ وہ دُنیا کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جون 12:01

بے شرم سعودی نوجوان اپنی بہن کو مسلسل زیادتی کا نشانہ بناتا رہا
دمام(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔10جون 2020ء) سعودی مملکت میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والی ایک ایسی کہانی سامنے آئی ہے جس نے سعودی عوام کے رونگٹے کھڑے کر دیئے ہیں اور وہ شدید غم و غصے کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ سعودی اخبار المرصد کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دمام سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لڑکی ر غد نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا چھوٹا بھائی اسے کافی عرصہ تک جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور اس دوران اس پر شدید تشدد بھی کر کے دھمکی دیتا رہا کہ زبان کھولنے کی صورت میں اسے جان سے مار دے گا۔

بدنصیب لڑکی رغد نے بتایا ” 16 سالہ بھائی نے جب پہلی بار مجھ سے جنسی زیادتی کی تو میں شدید خوف و ہراس کی شکار ہو گئی۔مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کوئی بھائی اپنی سگی بہن کے ساتھ ایسا بھی کر سکتا ہے۔

(جاری ہے)

مگر بے شرم بھائی میں ضمیر اور اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ اس نے بعد میں بھی کئی بار مجھے جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ آخر میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب اپنا مزید جسمانی استحصال نہیں ہونے دوں گی۔

میں نے اپنے والدین کو ساری بات بتا دی۔ مجھے یقین تھا کہ اب میرے بھائی کو اس کے کیے کی سزا مل جائے گی۔ مگر میرے ساتھ اُلٹا معاملہ ہوا۔ میرے ماں باپ اور دوسرے بھائی نے مجھے مل کر مارا پیٹا اورکہا کہ جو ہو گیا، سو ہو گیا، اب میں اپنی زبان بند رکھوں۔ ورنہ ان کی سماج میں بڑی بدنامی ہو گی اور وہ کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے۔ کسی نے بھی درندہ صفت بھائی کو کچھ نہیں کہا۔

کتنے شرم کی بات ہے کہ ان لوگوں کو اپنی بیٹی کی حیا و ناموس اور جنسی استحصال سے زیادہ سماج میں اپنے مقام اور مرتبے کی زیادہ پرواہ تھی۔ میں اس واقعے کے بعد شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہو گئی، یہاں تک کہ مجھے گھر پر ہی رکھ کر میرا نفسیاتی علاج بھی کروایا گیا۔ میں نے جب بھی اپنے گھر والوں سے کہا کہ وہ میرے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کریں، بھائی کو سزا دلوائیں تو ہر بار مجھے تشد د کا نشانہ بنایا گیا، جس میں میرا دوسرا بھائی بھی شامل ہو جاتا۔

سارے گھر والے یہی کہتے کہ میں جھو ٹ بول رہی ہوں، اپنے بھائی پر غلط الزام لگا رہی ہوں۔ مجھ سے زیادتی کرنے والا بھائی بھی میری مار پیٹ کرتا رہا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں ان بے حس لوگوں میں کچھ عرصہ اور رہی تو ذہنی تناؤ کے ہاتھوں مر جاؤں گی۔چند روز قبل جب میری مار پیٹ کی گئی تو میں نے اسی دن گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کر لیا اور اپنے ایک جاننے والوں کے ہاں جا کر انہیں ساری بات بتا دی۔

میں انصاف کی طلب گار ہوں۔“رغد کی انسانیت کو رُلا دینے والی اس داستان کے سامنے آنے کے بعد سعودی عرب کے انسداد گھریلو تشدد کے ادارے نے اس سے رابطہ کیا ہے۔ رغد کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی اور استحصال کے سامنے آنے پر سعودی عوام نے
#انقذوا_رغد_معنف?_الدمام (دمام کی رغد کوتشدد سے بچاؤ) کے عنوان سے ایک ہیش ٹیگ بنا دیا ہے۔ ٹویٹر صارفین نے رغد سے ہونے والے سلوک پر اس سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے کی تحقیقات کر کے قصورواروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

الدمام میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments