سعودیہ کے پرائیویٹ اسپتالوں نے مریضوں کی کھال اُتارنا شروع کر دی

بعض طبی مراکز پر ہسپتال طبی معائنے کے لیے 500 ریال تک وصول کر رہے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل فروری 12:35

سعودیہ کے پرائیویٹ اسپتالوں نے مریضوں کی کھال اُتارنا شروع کر دی
جدہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5فروری 2019ء) سعودی عرب کے ڈاکٹرز بھی قصائی بن گئے ہیں۔ سینکڑوں شہروں نے شکایتیں درج کرائی ہیں کہ بعض اسپتالوں اور میڈیکل سنٹرز میں ڈاکٹر حضرات مریضوں سے طبی معائنہ فیس کی مد میں پانچ سو ریال تک بھی وصول کر ر ہے ہیں۔ جو شہریوں سے انتہائی ظلم اور اُن کی کھُلے عام لُوٹ مار کے مترادف ہے۔ اگر کسی ایک ہی مرض کا ماہر ڈاکٹر دو سو ریال وصول کرتا ہے تو کسی اور طبی مرکز میں اسی مرض کا ماہر ڈاکٹر پانچ سو ریال بھی وصول کر رہا ہے۔

ڈاکٹروں کی فیسوں میں یہ تضاد سمجھ سے باہر ہے۔ محکمہ صحت کو اس ساری صورتِ حال کا نوٹس لے کر عوام کو دن دیہاڑے لُوٹنے والے ڈاکٹرز کی سرزنش اور اُن کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ تاکہ یہ لوگ انسانیت کے مسیحا کا کام کریں نہ کہ اُنہیں مزید تکلیف میں مبتلا کرنے کا باعث بنیں۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ طبی معائنہ فیس وصول کرنے کی بھیڑ چال کی روک تھام کے لیے تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

کیونکہ اس حوالے سے اتنی شکایات موصول ہوئیں کہ محکمے کا حرکت میں آنا ضروری ہو گیا۔ اس وقت تفتیشی ٹیمیں طبی مراکز میں نرخ نامے کی خلاف ورزیوں کی چیکنگ کر رہی ہیں۔ نجی صحت اداروں کے قانون کی دفعہ 7 میں طبی معائنے کی قیمت اور مختلف خدمات کا نرخ نامہ متعین ہے۔ ہر نجی ادارہ اپنے یہاں خدمات کا نرخ نامہ متعین کرکے وزارت صحت سے اس کی منظوری لیتا ہے۔ کسی بھی ہیلتھ سنٹر یا نجی اسپتال کو مقررہ نرخ سے زائد وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم عوام کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی معائنے کے لیے کئی کئی مہینے بعد کی تاریخ دی جاتی ہے، جس کے باعث لوگ مجبوراً نجی اسپتالوں کا رُخ کر کے وہاں اپنی کمائی جانتے بُوجھتے بھی لُٹوانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments