غوطہ خوری میں ریکارڈ ہولڈر سعودی نوجوان ڈوب کر ہلاک

بسام نے بغیر آکسیجن سلنڈر کے سمندر کی گہرائی میں 2 منٹ 50 سیکنڈ گزار کر ورلڈ ریکارڈ قائم کیا تھا

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ جولائی 16:16

غوطہ خوری میں ریکارڈ ہولڈر سعودی نوجوان ڈوب کر ہلاک
جدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 6جولائی 2019ء) سعودی عرب کے لیے منفرد ریکارڈ ہولڈ کا مالک بسام بخیت گزشتہ روز سمندر میں ڈُوب کر ہلاک ہو گیا۔ سعودی نیوز ویب سائٹ عاجل کے مطابق بسام بخیت فری ڈائیونگ کے معروف غوطہ خور تھے،جنہوں نے کئی ریکارڈ قائم کیے تھے۔ ان کے دوست کیپٹن سراج نے بتایاکہ وہ ابحر کے بہادر بیچ کے قریب غوطہ خوری کی مشق میں مصروف تھے۔

چونکہ مشق آکسیجن سلنڈر کے بغیر ہوتی ہے اس لیے غوطہ خوری کی مدت دو سے 3 منٹ سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ جب بسام کو غوطہ لگائے ہوئے 3 منٹ سے زیادہ ہوگئے تو ہمیں پریشانی ہوئی۔ تلاش کرنے کے لئے ساتھیوں نے بھی غوطے لگائے مگر ناکامی ہوئی۔جس پر سمندری سرحدی فورس کی امدادی ٹیم کو اس بارے میں اطلاع دی گئی کہ بسام لاپتہ ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

امدادی ٹیموں نے 24 گھنٹے کی تلاشی کے بعد ان کی لاش سمندر سے نکال لی ہے۔

کیپٹن بسام بخیت فری ڈائیونگ میں سعودی عرب کے معروف خوطہ خور تھے جنہوں نے کئی ریکارڈ قائم کیے۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ آکسیجن سلینڈر کے بغیر سمندر کی انتہائی گہرائیوں میں جاتے تھے۔ گذشتہ دنوں انہوں نے مصر کے شہر دہب میں منعقد ہونے والے عالمی مقابلے میں حصہ لیا تھاجس میں عرب اور غیر ملکی ممتاز غوطہ خور شریک تھے۔ وہ آکسیجن سلنڈر کے بغیر سمندر میں 71 میٹر گہرائی تک پہنچے تھے، جہاں انہوں نے دو منٹ 50 سیکنڈ رہ کا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا تھا۔

واضح رہے کہ فری ڈائیونگ میں آکسیجن سلینڈر اورسوئمنگ فائن کے بغیر غوطہ خوری کرنے ہوتی ہے۔ غوطہ خور ایک رسی کی مدد سے سمندر کی انتہائی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔بسام بسام بخیت جدہ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مقابلے میں نیا ریکارڈ قائم کرنے کے لئے مشق میں مصروف تھے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments