جدہ: نجی اداروں سے 10لاکھ غیر مُلکیوں کو فارغ کر دیا گیا

سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح گھٹ کر 6.6 فیصد تک ہو گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جولائی 11:09

جدہ: نجی اداروں سے 10لاکھ غیر مُلکیوں کو فارغ کر دیا گیا
جدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8جولائی 2019ء ) سعودی مملکت میں نجی کمپنیوں اور اداروں سے10 لاکھ غیر مُلکیوں کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا ہے یا وہ خود ہی ملازمتوں سے استعفیٰ دے کر وطن واپس جا چکے ہیں۔ فروغ افرادی قوت فنڈ (ہدف) نے 2018ء کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق سعودی عرب میں2018ء کے دوران نجی اداروں میں مجموعی افرادی قوت 85.9 لاکھ تھی۔

ان میں 17 لاکھ سعودی خواتین و حضرات تھے۔ جن میں سے اب تک 10 لاکھ غیر مُلکی نجی اداروں کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔ ان کی جگہ زیادہ تر نوکریوں پر سعودی افراد کو نوکریاں دی گئی ہیں۔ جس کے بعد سعودی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 6.6 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ تاہم سعودی نوجوان اس بیان کردہ شرح کو درست تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

(جاری ہے)

ایک نوجوان نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا کہ حکومت کی جانب سے بے روزگاری کی شرح غلط بتائی گئی ہی۔

اصل شرح 6.6 فیصد سے زیادہ ہے۔ سعودائزیشن کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب حقیقی نہیں ہے۔ ایک سعودی خاتون نے کہا کہ اُس سمیت 142 سعودیوں کو اکٹھے ہی ملازمت سے نکال دیا گیا۔ ان حکومتی دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں کہ لاکھوں غیر مُلکیوں کے مُلک سے چلے جانے کے بعد اُن کی جگہ زیادہ سے زیادہ سعودیوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نجی ادارے ابھی تک سعودیوں کی جگہ غیر مُلکیوں کو ہی بھرتی کر رہے ہیں، کیونکہ غیر مُلکی ورکر کم معاوضے میں نوکریوں کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ سعودی شہریوں پر 10 سال کا تجربہ ، 20 کمپیوٹرپروگراموں سے واقفیت اور 5زبانوں پر عبور جیسی شرائط لگائی جارہی ہیں۔جس کی وجہ سے اُنہیں نوکریاں ملنا محال ہو چکا ہے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments