سعودی نوجوان انٹرنیٹ کے ہاتھوں یرغمال بن گئے

سعودی لڑکے اور لڑکیاں روزانہ انٹرنیٹ پر اوسطاً 9 گھنٹے گزارتے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جولائی 13:00

سعودی نوجوان انٹرنیٹ کے ہاتھوں یرغمال بن گئے
جدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8جولائی 2019ء ) انٹرنیٹ کے حوالے سے دُنیا بھر میں تحقیق کرنے والی عالمی ایجنسی سیسکو نے سعودی عرب کے حوالے سے اپنی تازہ ترین رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق سعودی نوجوانوں میں انٹرنیٹ کا جنون بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔سعودی لڑکے اور لڑکیاں روزانہ اوسطاً 9 گھنٹے انٹرنیٹ پر لگاتے ہیں۔ 2017ء میں سعودی عرب میں انٹرنیٹ صارفین کی گنتی 20 لاکھ تھی جو کہ اس وقت ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے۔

2022ء تک بڑھ کر تین کروڑ تک ہو جائے گی۔ یعنی 2022ء میں سعودی عرب کی 82 فیصد آبادی انٹرنیٹ سے مستفید ہونے لگے گی۔ جبکہ ہرکمپیوٹرز، لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کی صورت میں میں تقریباً پانچ ڈیوائسز میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہو گی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں انٹرنیٹ پہلی مرتبہ 1994 میں متعارف ہوا۔

(جاری ہے)

پہلی بار تعلیمی، طبی اور ریسرچ اداروں کو انٹرنیٹ کی سہولت سرکاری طور پر 1997 میں فراہم کی گئی جبکہ عام لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی 1999 میں ملی۔

سعودی انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن بورڈ کے اعداد وشمار کے مطابق دسمبر 2000 میں مملکت میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو 2013 میں ڈیڑھ کروڑ سے بڑھ گئی۔2022 میں صرف سعودی عرب میں انٹرنیٹ کے حامل آلات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہاں آٹھ کروڑ سے زائد آلات بڑھ جائیں گے اور ان کی مجموعی تعداد لگ بھگ ساڑھے 19 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ سعودی عرب میں 12.2 میگا بائٹ فی سیکنڈ سے رفتار بڑھ کر 41.2 میگا بائٹ تک پہنچ جائے گی۔ اس کی بدولت کمپنیاں اور عام شہری اپنا کام زیادہ تیزی بہتر طریقے سے سر انجام دے سکیں گے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments