سعودی عرب میں 75 فیصد ملازمتوں پر غیر مُلکیوں کا قبضہ ہے

مملکت میں برسرروز گار مرد کارکنوں کی گنتی 1 کروڑ کے لگ بھگ جبکہ خواتین کی گنتی تقریباً 23 لاکھ ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جولائی 11:41

سعودی عرب میں 75 فیصد ملازمتوں پر غیر مُلکیوں کا قبضہ ہے
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 9جولائی 2019ء) سعودی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مملکت میں 75.6 فیصد ملازمتوں پر غیر مُلکی افراد کا قبضہ ہے۔ سعودی اخبار الوطن نے ادارہ شماریات کی جانب سے شائع کردہ 2019ء کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مملکت میں اس وقت مجموعی کارکنان کی گنتی 1 کروڑ 27 لاکھ 65 ہزار ہے جن میں سے مرد کارکنان کی گنتی 1 کروڑ 9 لاکھ 49 ہزارہے جو کُل افرادی قوت کا 82.2 فیصد ہیں جبکہ برسر روزگار خواتین کی گنتی 22 لاکھ 70 ہزار نوٹ کی گئی جو کُل افرادی قوت کا 17.8 فیصد ہیں۔

مملکت میں موجود سعودیوں کی گنتی 31 لاکھ 12 ہزار ہے جس میں سے مردوں کی گنتی 65.4 فیصد کی شرح کے ساتھ 21 لاکھ ہے جبکہ خواتین کی گنتی 34.4 فیصد کی شرح کے ساتھ 10 لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہے۔

(جاری ہے)

مملکت میں 24 فیصد نوکریوں پر سعودی باشندے قابض ہیں۔ مجموعی افرادی قوت میں سے سعودی مردوں کی گنتی 16 فیصد جبکہ سعودی خواتین کی گنتی 8.4 فیصد ہے۔ مملکت میں موجود کارکنان میں سے 30 سے 35 سال کے افراد کی گنتی 18.5 فیصد، 35 سے 39 سال کی 17.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

جبکہ 65 سال سے زائد العمر کارکنان کی گنتی محض 0.4 فیصد ہے۔ سعودی افرادی قوت کا 77.8 فیصد ریاض، مکّہ اور دمام میں مقیم ہے۔ جن میں سے ریاض مجموعی افرادی قوت کی 39.2 فیصد کی شرح کے ساتھ سرفہرست ہے۔ تاہم بہت سارے پیشوں میں سعودائزیشن کے نفاذ کے بعدمستقبل میں غیر مُلکیوں کی تعداد میں مزید کمی واقع ہو جائے گی۔

متعلقہ عنوان :

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments