سعودی عرب میں خواتین ملازموں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کر دیا گیا

نئے شاہی فرمان کے تحت سعودی خواتین ملازموں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال سے بڑھا کر 60 سال کر دی گئی ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل اگست 13:02

سعودی عرب میں خواتین ملازموں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کر دیا گیا
جدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 6اگست 2019ء) سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ایک تازہ ترین شاہی فرمان کے تحت خواتین اور مردوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر یکساں کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل خواتین کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال مقرر تھی تاہم اب اُن کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں مزید پانچ سال کا اضافہ کر کے اُسے 60 برس کر دیا گیا ہے۔ خواتین پر یہ پابندی 2 اگست 2019ء سے لاگو کی گئی ہے۔

جنرل آرگنائزیشن فار سوشل انشورنس نے سرکاری اور نجی سیکٹر سے تعلق رکھنے والے تمام اداروں اور محکموں کو سوشل سیکورٹی میں ترامیم کے حوالے سے شاہی فرمان کے اجرا سے آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل سعودی خواتین 55 برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے کر پینشن کی حقدار بن جاتی تھیں۔

(جاری ہے)

مگر اس کے نتیجے میں مملکت کی افرادی قوت میں خواتین کی شرکت کم ہو جاتی تھی۔

نئے شاہی فرمان کے تحت صرف وہی ملازم خواتین پینشن کی حقدار ہوں گی۔ جن کی مُدت ملازمت کم از کم پچیس برس کی ہو اور وہ 60 برس کی ہو جائیں۔ بصورت دیگر اُنہیں پینشن کی سہولت مہیا نہیں ہو گی۔ سعودی خواتین نے ملازمت کی حد کی عمر بڑھانے پر سعودی حکومت کا بے حد شکریہ ادا کیا ہے اور اُمید ظاہر کی ہے کہ مزید پانچ سال کی ملازمت کی رعایت ملنے کے باعث اب وہ پُوری تنخواہ اور مراعات حاصل کر سکیں گی اور اپنے خاندان کی ترقی و خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار نبھا سکیں گی۔واضح رہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران سعودی خواتین کو بہت سے حقوق اور آزادیاں حاصل ہوئی ہیں جو سعودی ولی عہد کے ویژن 2030 پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا ایک حصّہ ہے۔

متعلقہ عنوان :

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments