سعودی عرب میں 10 سالہ بچی کے نکاح کا واقعہ سامنے آ گیا

حکومت نے نکاح خواں کو سزا دینے کا اعلان کر دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ اگست 13:41

سعودی عرب میں 10 سالہ بچی کے نکاح کا واقعہ سامنے آ گیا
جدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 7اگست 2019ء) سعودی عرب میں دس سالہ بچی کا نکاح پڑھانے کا واقعہ سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تنقید کا ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ وزارت انصاف کی جانب سے بھی اس واقعے کا نوٹس لے لیا گیا ہے۔ وزیر انصاف ولید محمد السلمانی نے واضح کیا ہے کہ چھوٹی عمر کی بچی کا نکاح پڑھایا جانا افسوس ناک واقعہ ہے اور اس واقعے میں ملوث تمام کرداروں کو سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔

جبکہ نکاح خواں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ سعودی قانون کی رُو سے 17 سال سے کم عمر لڑکیوں کا نکاح نہیں پڑھایا جا سکتا۔ ایسا کرنا سراسر غیر قانونی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر انصاف نے نابالغ لڑکی کا نکاح نامہ وزارت انصاف و سماجی بہبود کو بھیج دیا ہے جو اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کیا نکاح خواں کی جانب سے اس نکاح کا اہتمام کرنا چائلڈ پروٹیکشن لاء کی خلاف ورزی کے زمرے میں تو نہیں آتا۔

(جاری ہے)

وزار ت انصاف کے مطابق کم عمری کی شادی کروانے والوں کو عدالتوں کا سامنا کرنا ہو گا کیونکہ شادی کے لیے مخصوص عمر سے پہلے بچیوں کا نکاح پڑھایا جانا اُن کے جسمانی اور ذہنی استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔ وزارت کی طرف سے نکاح خواں اور بچی کی شناخت تو ظاہر نہیں کی گئی بس اتنا بتایا گیا ہے کہ متاثرہ بچی کی پیدائش 1431ہجری میں ہوئی تھی۔ سعودی قانون برائے تحفظ اطفال کے تحت کسی بھی بچی کا نکاح اُس وقت ہی کیا جا سکتا ہے جب وہ نفسیاتی، سماجی، جسمانی لحاظ سے بلوغت کو پہنچ جائے، جس کے لیے 17 سال کی عمر مخصوص کی گئی ہے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments