سعودی عرب میں ریئل اسٹیٹ کے شعبے پر غیر مُلکیوں نے قبضہ جما رکھا ہے

سعودی اخبار کے مطابق ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں 73 فیصد ملازمین تارکین وطن ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ ستمبر 12:48

سعودی عرب میں ریئل اسٹیٹ کے شعبے پر غیر مُلکیوں نے قبضہ جما رکھا ہے
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،4 ستمبر، 2019 ء) سعودی عرب میں ریئل اسٹیٹ کا شعبہ تارکین کے قبضے میں ہے۔ سعودی اخبار الاقتصادیہ کی جانب سے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر خبر شائع کی گئی ہے جس کے مطابق سعودی مملکت میں ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں کام کرنے والے تین چوتھائی افراد کا تعلق دیگر ممالک سے ہے۔ صرف ایک چوتھائی افراد سعودی مملکت سے تعلق رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں اس وقت 36,152 ملازمین ہیں جن میں سے مقامی افراد کی تعداد 10 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ غیر ملکی ملازمین کی گنتی 26,287 ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں تارکین کی شرح 72.8 فیصد ہے۔ 2019ء کی پہلی سہ ماہی کے اختتام پر حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں سعودیوں کی تعداد 9,865 نوٹ کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

جس سے ان کی اس شعبے میں شرح 27.2 فیصد بنتی ہے۔ ریئل اسٹیٹ میں اس وقت مردوں کی اجارہ داری ہے۔ 36,152 ملازمین میں سے مردوں کی گنتی 33,235 ریکارڈ کی گئی ہے جن میں سے غیر مُلکی مردوں کی شرح 92 فیصد ہے جبکہ خواتین کی شرح آٹھ فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ ریئل اسٹیٹ میں اس وقت 2,711 سعودی خواتین ملازمت کر رہی ہیں جبکہ اس شعبے میں کام کرنے والی غیر مُلکی خواتین کی گنتی صرف 206 بتائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں بہت سے شعبوں میں سعودائزیشن کا نفاذ کر کے ان میں غیر مُلکیوں کی جگہ مقامی افراد بھرتی کیے جا رہے ہیں جس کا مقصد مقامی نوجوانوں میں سے بے روزگاری کی شرح کو گھٹانا اور ان میں بڑھتے ہوئے احساسِ محرومی میں کمی لانا ہے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments