سعودائزیشن کی پالیسی کے بعد 12 لاکھ غیر مُلکی سعودی عرب سے رخصت ہو چکے ہیں

اس وقت سعودی عرب میں غیر مُلکی ملازمین کی تعداد گھٹ کر 70 لاکھ پر آ چکی ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر ستمبر 10:49

سعودائزیشن کی پالیسی کے بعد 12 لاکھ غیر مُلکی سعودی عرب سے رخصت ہو چکے ..
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،9 ستمبر 2019ء) سعودی عرب میں غیر ملکیوں پر عائد مرافقین فیس اور سعودائزیشن کی پالیسی کے باعث لاکھوں غیر مُلکی لیبر مارکیٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔المدینہ اخبار کی رپورٹ کے مطابق 2016ء سے 2019ء کے درمیان 12 لاکھ غیر مُلکی اپنی نوکریاں ختم ہو جانے اور فیملی فیس کی ادائیگی سے قاصر ہونے کے باعث سعودی مملکت سے جا چکے ہیں۔

اس وقت لیبر مارکیٹ میں غیر مُلکی ملازمین کی تعداد ماضی کے مقابلے میں گھٹ چکی ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں 70 لاکھ تارکین وطن موجود ہیں۔ تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سعودائزیشن پالیسی کے نفاذ ہونے کے باوجود مملکت میں سعودی ملازمین کی گنتی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔اس وقت سعودی لیبر مارکیٹ میں موجود سعودی ورکروں کی گنتی صرف 19 لاکھ ہے۔

(جاری ہے)

جس کا مطلب یہ ہے کہ جن شعبوں میں سعودائزیشن کی پالیسی نافذ کی گئی ہے وہاں کے مالکان اور اعلیٰ حکام سعودی ملازمین کو بھرتی کرنے سے کنی کترا رہے ہیں۔ کیونکہ اس وقت سعودی لیبر مارکیٹ میں 80 فیصد ورکر غیر مُلکی ہیں، جبکہ لاکھوں غیر مُلکیوں کے سعودی عرب چھوڑ جانے کے باوجود سعودی ملازمین کی گنتی میں بہت معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کو تیار کرنے والے ادارے ”ٹامسن رائٹرز“ کا کہنا ہے کہ نجی شعبہ غیر ملکیوں کی جگہ سعودی شہریوں کو بھرتی کرنے پر تیار نہیں ہے، اور مختلف حیلے بہانوں سے کام لے رہا ہے۔

اسی وجہ سے سعودائزیشن کی شرح اُمید کے مطابق نہیں ہو پائی۔ ٹامسن رائٹرز نے سعودی وزارت محنت کو تجویز دی ہے کہ اگر تمام بڑی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدوں پر سعودی شہریوں کو بھرتی کیا جائے تو اس سے سعودائزیشن کا عمل زیادہ بہتر طریقے سے آگے بڑھ سکے گا۔

متعلقہ عنوان :

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments