حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی شہر نجران پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ

سعودی فضائیہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل اور ڈرون فضا میں ہی مار گرائے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ ستمبر 12:45

حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی شہر نجران پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ
جدہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،11ستمبر 2019ء) یمن کے لیے تشکیل کردہ عرب اتحاد کے ترجمان کرنل تُرکی المالکی نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کو ایک بار پھر تخریب کاری کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم سابقہ حملوں کی طرح حوثیوں کو اس بار بھی منہ کی کھانا پڑی ہے۔ ترجمان کے مطابق حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی علاقے نجران کی جانب تین بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، تاہم مستعد اور فعال فضائیہ نے ان تینوں میزائلوں کو اپنے ہدف پر پہنچ کر تباہی پھیلانے سے قبل ہی فضاء میں تباہ کر دیا جس کے باعث حوثیوں کی یہ سازش بھی ناکام ہو گئی۔

اس کے علاوہ یمن کے شورش زدہ علاقے سے نجران کی جانب بھیجا گیا ڈرون طیارہ بھی تباہی پھیلانے کے لیے بھیجا گیا، اسے بھی فضائیہ نے مار گرایا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ اس سے قبل 4 ستمبر کو بھی سعودی عرب کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تاہم یہ میزائل اپنے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیئے گئے۔ اس سے قبل حوثی ملیشیا نے یمن کے علاقے ’عمران‘ سے بھی سعودی عرب پر ڈرون حملے کی کوشش کی تھی، مگر عرب اتحاد کے موٴثر اور مضبوط دفاعی نظام کے باعث یہ حملے بھی ناکامی سے دوچار ہو گئے۔

کرنل المالکی نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام میں یہ گمراہ کن پراپیگنڈہ کر رہی ہے کہ سعودی افواج کی جانب سے یمن کے شہر صنعا میں عوامی مقام پر نشانہ بنایا گیا جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ سعودی عرب اور اس کی اتحادی افواج نے صنعا میں کسی عوامی مقام پر حملہ نہیں کیا بلکہ حوثیوں کے ڈرونز اور بیلسٹک میزائل سے بھرے ہوئے گودام پر حملہ کر کے اسے تباہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ اتحادی افواج یمن کے ان غاروں پر بھی حملے کر رہی ہے جہاں سے حوثی باغی سعودی عرب میں تباہی پھیلانے کی غرض سے ڈرونز بھیجتے ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے اب تک سعودی عرب پر 232 میزائل حملے کیے جا چکے ہیں اس کے علاوہ 77109 گولے بھی سعودی مملکت پر داغے گئے ہیں۔ لیکن پے در پے ناکامیوں کے بعد اب وہ گمراہ کن پراپیگنڈے پر اُتر آئے ہیں۔ انہیں مختلف محاذوں پر بھاری جانی اور مالی نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments