سعودی عوام بھی پڑھ لکھ گئے، شرح خواندگی 94 فیصد ہو گئی

8 ستمبر کو انسدادِ ناخواندگی کے عالمی دِن کے موقع پر اعداد و شمار جاری کر دیئے گئے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ ستمبر 13:13

سعودی عوام بھی پڑھ لکھ گئے، شرح خواندگی 94 فیصد ہو گئی
جدہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،11ستمبر 2019ء) سعودی عرب میں 1980ء کی دہائی میں بہت کم مقامی افراد تعلیم یافتہ تھے، اسی وجہ سے سعودیوں کا ہر شعبے میں پُوری طرح غیر مُلکیوں پر انحصار تھا۔ ہر شعبے میں تارکین چھائے ہوئے تھے، سعودی کلیدی عہدوں پر شاذ و نادر ہی نظر آتے تھے۔ مگر سعودی فرمانرواؤں نے سعودی عوام کو پسماندگی اور ناخواندگی کے اندھیروں سے نکال کرتعلیم کے اُجالوں کی جانب لے جانے کا عزم کیا اور اس حوالے سے ایسی شاندار تعلیمی منصوبہ بندی کی کہ چند دہائیوں کے اندر اندر صورتِ حال یکسر تبدیل ہو کر رہی گئی ہے۔

سعودی وزارت تعلیم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں خواندگی کی شرح 94 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح مملکت میں اب صرف 5.6 فیصد لوگ ناخواندہ ہیں۔

(جاری ہے)

وزارت تعلیم کی جانب سے یہ اعداد و شمار 8 ستمبر کو انسدادِ ناخواندگی کے عالمی دِن کے موقع پر جاری کیے گئے ہیں۔ سعودی وزارت تعلیم کے مطابق مملکت میں شرح خواندگی بڑھانے میں سب سے اہم کردار تعلیم بالغاں پروگرام نے ادا کیا۔

اس وقت مملکت میں 2259 اسکول بالغوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان میں خواتین اور مردوں دونوں کے لیے اسکول ہیں۔ ان اسکولوں میں 90 ہزار بالغ عمر کے طلباء و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 305کمیونٹی ایجوکیشن سنٹر بھی تعلیم بالغاں کے تحت چلائے جا رہے ہیں، جہاں سے 1لاکھ 14 ہزار 939 مرد و خواتین نے تعلیم حاصل کرکے اپنی تعلیمی پسماندگی دُور کی۔ ان کمیونٹی ایجوکیشن سنٹرز میں 15برس سے 50 برس کی خواتین کو لیبر مارکیٹ کا حصہ بنانے کے لیے مختلف ہُنر بھی سکھائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی این جی اوز بھی دُور دراز کے ویران اور صحرائی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments