سعودی عرب میں گھریلو ملازمین کی گنتی 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی

گھریلو ڈرائیوروں کی تعداد 16 لاکھ66 ہزار ہے جن میں 494 خواتین ڈرائیورز بھی شامل ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ ستمبر 11:22

سعودی عرب میں گھریلو ملازمین کی گنتی 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی
جدہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،14ستمبر 2019ء ) سعودی عرب میں گھریلو ملازمین کی گنتی 30 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ جن میں گھریلو ڈرائیوروں کی گنتی 16 لاکھ 66 ہزار بتائی جاتی ہے، ان میں خواتین ڈرائیورز کی گنتی 494 ہے۔ گھریلو ڈرائیورز میں پاکستانی ڈرائیورز کی گنتی محض 8 فیصد ہے، جبکہ سب سے زیادہ گنتی انڈونیشیا کے ڈرائیورز کی ہے۔ سعودی محکمہ شماریات کی جانب سے رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں غیر مُلکی ملازمین میں ڈرائیور، صفائی کارکن، چوکیدار کے علاوہ دیگر پیشوں پر کام کرنے والے شامل ہیں۔

محکمہ شماریات کے مطابق صفائی کے کارکنوں کا تناسب 44فیصد ہے۔ گھریلو ملازمین میں ڈرائیوروں اور خادمہ کے ویزے پر کام کرنے والوں کا تناسب 97.6 فیصد ہے۔گھریلو صفائی کے کارکنوں کی تعداد 13 لاکھ68 ہزار ہے جن میں 3لاکھ64 ہزار مرد کارکن ہیں۔

(جاری ہے)

چوکیدار کے ویزے پر کام کرنیوالے ملازمین کی تعداد30 ہزار 506 ہے۔ سعودی عرب میں گھریلو خادماؤں میں انڈونیشین خواتین سرفہرست ہیں جو اس شعبے میں 80 فیصد نوکریوں پر قابض ہیں۔

گھروں میں پرائیویٹ ٹیوٹر کے طور پر پڑھانے والے غیر مُلکیوں کی گنتی 4421 ہے جن میں مردوں کی تعداد 4386 جبکہ خواتین صرف 35 ہیں۔ گھروں میں باورچی کے طور پر کام کرنے والے غیر مُلکی مردوں کی گنتی 5115 اور خواتین کی 25512 ہیں۔گھریلو ملازمین کے اقاموں کی تجدید کی فیس 500 ریال ہوتی ہے جبکہ ان ملازمین پر لیبر فیس جسے مکتب العمل کہا جاتا ہے کی فیس لاگو نہیں ہوتی۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments