سعودی عرب میں خواتین کے لیے ایک اور تبدیلی آ گئی

خواتین کو بغیر محرم کے ہوٹلوں اور اپارٹمنٹس میں قیام کی اجازت مِل گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ اکتوبر 10:09

سعودی عرب میں خواتین کے لیے ایک اور تبدیلی آ گئی
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5اکتوبر2019ء) سعودی عرب میں گزشتہ دو سالوں سے تبدیلیوں کا سیزن چل رہا ہے۔ آئے روز حکومت اور سرکاری اداروں کی جانب سے کوئی نہ کوئی ایسا اصلاح پسندانہ اقدام لیا جاتا ہے جسے دُنیا بھر میں تعریف و تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور سعودی عرب کے بارے میں قدامت پراستی کاتصور بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ اب کی بار سعودی سیاحتی کمیٹی کی جانب سے ہوٹلوں اور فرنشڈ اپارٹمنٹس کی انتظامیہ کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ایسی خواتین جن کے پاس سعودی عرب میں قیام کا قانونی اجازت نامہ موجود ہو، اگر وہ محرم کے بغیر بھی آتی ہیں تو انہیں بغیر کسی عذر کے کمرہ فراہم کر دیا جائے۔

عربی ویب نیوز عاجل کے مطابق قومی سیاحتی کمیٹی کے نائب نگران ڈاکٹرحمد بن محمد السماعیل نے مملکت کے تمام ہوٹلوں اورفرنشڈ اپارٹمنٹس اور رہائش گاہیں فراہم کرنے والوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ مملکت میں قانونی طور پرمقیم مرد اور خواتین کو بلا امتیاز جنس کمرے اور رہائش گاہیں فراہم کی جائیں۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے جاری ہونے والے سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ ہوٹلوں کی بکنگ کے وقت کمرہ یا اپارٹمنٹ حاصل کرنے کے خواہش مند مقامی یا غیر ملکی مرد یا خاتون سے اس کا اصل شناختی کارڈ ضرور دیکھا جائے۔

اگر کوئی غیر ملکی مرد یا خاتون رہائش گاہ یا کمرہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کا اقامہ کارڈ دیکھ کر رجسٹر میں اس کا اندراج کیا جائے۔سیاحتی ویزے پر آنے والے مرد اور خواتین کو انکے پاسپورٹ پر انٹری کی مہر دیکھ کر ہی کمرہ فراہم کیا جائے۔واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی مملکت میں مقامی یا غیر ملکی خواتین کے ہوٹلوں میں قیام کے لیے اپنے محرم یعنی والد، بھائی، شوہر یا قریبی رشتے دار کے ساتھ نہ ہونے پر ہوٹلوں میں کمرہ حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments