ریاض: یکم جنوری 2020ء سے کاروباری مراکز 24 گھنٹے کھُلے رکھنے کی اجازت مِل جائے گی

رات کے وقت ڈیوٹی دینے والے کارکنوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنا آجر کی ذمہ داری ہو گی

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ اکتوبر 10:36

ریاض: یکم جنوری 2020ء سے کاروباری مراکز 24 گھنٹے کھُلے رکھنے کی اجازت مِل ..
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5اکتوبر2019ء) ایک سعودی اخبار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی وزریر محنت و سماجی بہبود احمد الراجحی کی جانب سے یکم جنوری 2020ء سے مملکت میں کاروباری سرگرمیاں 24 گھنٹے جاری رکھنے کے قانون کی باقاعدہ منظوری دی جائے گی۔ اس حوالے سے سعودی وزیر محنت نے کارکنوں کے تحفظ کے لیے ایک ضابطہ کار متعین کر دیا ہے۔ اس ضابطہ کار کے مطابق کاروباری مراکز پر رات کی ڈیوٹی کا آغاز 11 بجے سے ہو گا جو صبح 6 بجے تک جاری رہ سکے گی۔

رات کی ڈیوٹی دینے والے کارکن سے رضا مندی کا تحریری ثبوت لیا جائے کہ وہ رات کی ڈیوٹی اپنی مرضی سے کر رہے ہیں۔ یہ تحریر ان کی ذاتی فائل میں لگائی جائے ۔ جبکہ انتظامیہ ایسے مرد یا خواتین کارکنوں سے رات کی ڈیوٹی نہیں کروا سکتی جنہیں ان کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔

(جاری ہے)

اگر وہ اس حوالے سے میڈیکل رپورٹ فراہم کر دیں تو پھر انہیں زبردستی رات کی ڈیوٹی پر نہ رکھا جائے۔

اسی طرح اگر کسی کارکن کی رات کی ڈیوٹی کے باعث صحت بگڑنے لگے، تو اس کی رات کی شفٹ بدل دی جائے۔ ضابطہ کار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کارکنوں کی صحت اور ایمرجنسی صورتِ حال کے مدنظر ان کے کام کی جگہ پر ضروری ادویات اور طبی اشیاء بھی ہر وقت دستیاب ہونا لازمی ہیں۔ جبکہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے ایسے کارکن جن کے پاس ٹرانسپورٹ کی اپنی سہولت موجود نہیں ہے، ایسی صورت میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ انہیں آنے اور واپس جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کریں۔ آجر پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ دن اور رات کی ڈیوٹی کرنے والے کارکنوں کو یکساں طور پر انکریمنٹ اور دیگر مراعات دے اور ان سے برابری کا سلوک کرے۔

متعلقہ عنوان :

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments