سعودی عرب کی بزرگ خواتین بھی سوشل میڈیا کے نشے کا شکار ہو گئیں

60سالہ سعودی خاتون اُمِ نواف پہلے اپنے بچوں کو ہر وقت موبائل پر مصروف رہنے پر ڈانٹتی تھی، اب وہ بھی واٹس ایپ، فیس، ٹویٹر اور سنیپ چیٹ پر مگن رہتی ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر اکتوبر 10:36

سعودی عرب کی بزرگ خواتین بھی سوشل میڈیا کے نشے کا شکار ہو گئیں
ریاض (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 اکتوبر2019ء ) دُنیا بھر میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے بخار نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، تاہم گزشتہ کئی سالوں سے معمر لوگ بھی اس کی لت میں مبتلا ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سعودی عرب میں انٹرنیٹ بہت دیر سے عام ہوا، لیکن جب عام ہوا تو ایسا عام ہوا کہ یہاں کے نوجوان باشندے سوشل میڈیا کے استعمال کی اوسط شرح میں بہت آگے نظر آتے ہیں۔

اگرچہ سعودی عرب کے بزرگ طبقے میں ابھی بھی روایت پرستی موجود ہے، جس کے زیر اثر اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے استعمال کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، مگر اس کا نشہ آہستہ آہستہ بزرگ لوگوں پر بھی اپنا اثر دکھانے لگا ہے۔ عاجل ویب سائٹ کے مطابق سعودی مملکت میں 50سال سے زائد عمر کی مقامی خواتین میں بھی سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

(جاری ہے)

عاجل کی جانب سے سوشل میڈیا کی رسیا ایک 60 سالہ سعودی خاتون اُمِ نواف کی کہانی بیان کی گئی ہے جو آج سے چند سال پہلے تک سوشل میڈیا کو اچھا نہیں سمجھتی تھیں، مگر اب وہ خود بھی اس کے رنگ میں ایسے رنگی ہیں کہ انہوں نے اپنے اکاؤنٹس بھی بنا رکھے ہیں۔ اُمِ نواف واٹس ایپ ، فیس بُک، ٹویٹر اور سنیپ چیٹ ان چاروں پلیٹ فارمز پر بہت زیادہ سرگرم ہیں۔

کوئی بھی انہیں دیکھ کر یقین نہیں کرتا کہ انہیں سوشل میڈیا کا اس حد تک شوق ہو سکتا ہے۔ اُمِ نواف نے بتایا کہ 2010ء سے پہلے تک انہیں انٹرنیٹ کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔ جب وہ اس وقت اپنے یونیورسٹی کے طالب علم بیٹوں نواف اور خالد کو ہر وقت موبائل کے ساتھ مصروف دیکھتیں تو انہیں ڈانٹتیں، کہ وہ کن کاموں میں لگ گئے ہیں، انہیں موبائل کی بجائے اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہیے۔

اسی طرح جب ایک مرتبہ انہوں نے اپنے بیٹے کو بجلی کا بل جمع کروانے کے لیے کہا تو اس نے بیٹھے بیٹھے اپنے موبائل پر ہی یہ بل ادا کر دیا تو انہیں شروع شروع میں بالکل یقین نہیں آیا کہ ایسا بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں بھی لڑکیوں کو موبائل فو ن کے ساتھ جُڑا دیکھ کر انہیں بہت طیش آتا تھا۔ ایک روز انہوں نے اپنے بیٹے کے کہنے پر زندگی کا پہلا موبائل فون لے لیا۔

بیٹے نے ہی انہیں یہ فون استعمال کرنا سکھایا۔ جس کے بعد سے وہ سوشل میڈیا کی ایسی شوقین ہوئیں کہ سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، فیس بک اور ٹویٹر پر بھی اپنے اکاؤنٹ بنا ڈالے۔ جن پر وہ کمنٹ کرتی ہیں، شیئرنگ کرتی ہیں، میسجز کرتی ہیں اور اپنا سٹیٹس بھی اپ ڈیٹ کرتی رہتی ہیں۔ایسی ہی کہانی بزرگ خاتون جمیلہ عسیری کی بھی ہے۔ جو واٹس ایپ استعمال کرنے میں ماہر ہو چکی ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا کے فائدے کم اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments