اب سعودی عرب میں مقیم غیر مُلکیوں کے بچے بھی بینک اکاؤنٹ کھُلوا سکتے ہیں

سعودی مانیٹرنگ اتھارٹی کی جانب سے تمام نجی بینکوں کو سرکلر جاری کر دیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ اکتوبر 10:17

اب سعودی عرب میں مقیم غیر مُلکیوں کے بچے بھی بینک اکاؤنٹ کھُلوا سکتے ..
جدہ (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 اکتوبر2019ء) سعودی مملکت میں اس وقت 90 لاکھ کے قریب تارکین وطن موجود ہیں، جن میں کئی افراد نے اپنے ساتھ بیوی بچوں کو بھی ٹھہرا رکھا ہے۔ سعودی مانیٹرنگ اتھارٹی(ساما) کی جانب سے مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے بچوں کو بھی بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس حوالے سے ساما کی جانب سے تمام نجی بینکوں کو سرکلر جاری کر دیا گیا ہے۔

ایک عربی روزنامہ کے مطابق ساما کی جانب سے جاری اس سرکلر میں کہا گیا ہے کہ غیر مُلکیوں کے بچوں کا بینک اکاؤنٹ مشروط طور پر کھولنے کے بعد اس اکاؤنٹ میں ہونے والی ٹرانزیکشن کی نگرانی بھی کی جائے۔ اگر کسی نامعلوم یا مشکوک ذریعے سے بچوں کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم آتی ہے تو اس رقم کی تفصیلات سے ساما کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ اگر کوئی غیر معمولی بات معلوم ہو تو اس حوالے سے بھی ساما کو فوری خبر دی جائے۔

جاری کردہ ہدایات کے مطابق 15 سال سے زائد عمر کے بچوں کو اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے ان کے سرپرست کی جانب سے این او سی بینک میں جمع کروانا لازمی ہے ۔ تاہم ان بچوں کو چیک بُک 18 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد ہی جاری ہو سکے گی۔ جبکہ 15 سال سے کم عمر بچوں کا بینک اکاؤنٹ اُن کے سرپرست ہی آپریٹ کر سکتے ہیں۔ تارکین کے 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے لازمی ہے کہ اُن کا اقامہ زائد المیعاد نہ ہو اور اس کے علاوہ رہائشی پوسٹل کوڈ جو محکمہ ڈاک میں رجسٹرڈ ہو، اس کا اندراج لازمی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے ایسے تارکین جن کے بچوں کے اقامے مرافقین کے تھے، انہیں بینک اکاوٴنٹ کھولنے کی اجازت نہیں تھی۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments