سعودی عرب میں خواتین حجاب کی پابندی پر مشتعل ہونے لگیں

خواتین سوشل میڈیا پر اُلٹا عبایہ پہن کر احتجاج ریکارڈ کرانے لگیں

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ نومبر 13:25

سعودی عرب میں خواتین حجاب کی پابندی پر مشتعل ہونے لگیں
جدہ (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔2 نومبر 2019ء) سعودی عرب میں خواتین پر لباس کے حوالے سے مخصوص پابندیاں عائد ہیں، جن کی خلاف ورزی کرنے پر خواتین کو سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سعودی مملکت میں خواتین پر ایک پابندی یہ بھی ہے کہ وہ ایسا چُست لباس نہیں پہنیں گی، جس میں اُن کی جسمانی ساخت واضح ہو، اُن کے لیے ڈھیلا ڈھالا لباس پہننا لازمی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کے آنے کے بعد جہاں سعودی عرب دُنیا بھر میں خواتین کو حاصل آزادی سے آگاہ ہوئی ہیں، وہاں اُن کی جانب سے عبایہ کی پابندی پر بھی سوال اُٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔

عبائے کو ایک مصیبت سمجھنے والی خواتین نے ٹویٹر پر باقاعدہ ایک مہم چلائی ہے جس کے تحت وہ ریاستی پابندیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی ایسی تصویریں پوسٹ کر رہی ہیں، جن میں وہ عبایہ اندرونی سلائی والی سائیڈ سے پہنے دکھائی دے رہی ہیں۔

(جاری ہے)

ٹویٹر پر #Abaya_Insideout. کے نام سے ہیش ٹیگ بن چکا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے ہزاروں سعودی خواتین اس ہیش ٹیگ کے تحت اپنی عبائے میں ایسی تصاویر پوسٹ کر چکی ہیں، جن میں عبائے کی سلائی اور لائننگ والی سائیڈ باہر کو دکھائی دے رہی ہے۔

نورا عبدالکریم نامی ایک لڑکی نے اپنی ایک ایسی ہی تصویر پوسٹ کر کے لکھا ہے ”آج سے شروع ہو گیا۔ آج سے میں ریاستی احکامات اور رواج کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنا عبایہ اُلٹا پہنا کروں گی۔ ہمیں اس عبائے کا اس لیے پابند کیا گیا ہے کہ کہیں ہم اپنی شناخت ظاہر کرنے کی ہمت نہ کر بیٹھیں۔ ہمیں سارا دِن صرف اس وجہ سے نقاب اور عبایا پہنے رکھنا ہوتا ہے کہ ہمیں مردوں میں کام کرنا ہوتا ہے۔

مگر ان کا بوجھ اُٹھائے رکھنا کسی بھی انسان کے لیے بھاری مصیبت ہے۔ میں نے اب سے نقاب کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ایک اور خاتون نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہم خواتین پُرامن انداز میں اُن تمام رواجات اور قوانین کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، جن کے باعث ہمارے وجود کی نفی ہو جاتی ہے اور ہماری شناخت دُھندلا جاتی ہے۔
سعودی خواتین کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیے جانے والے اس انوکھے احتجاج کو دُنیا بھر میں بہت زیادہ کوریج مِل رہی ہے، اور سعودی حکومت کی عورتوں پر بے جا پابندیوں کی پُرزور مذمت بھی کی جارہی ہے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments