سعودی عرب میں آئندہ کبھی مجرموں کو کوڑے نہیں مارے جائیں گے

وزارت عدل کی جانب سے کوڑے مارنے کی سزا باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ مئی 10:28

سعودی عرب میں آئندہ کبھی مجرموں کو کوڑے نہیں مارے جائیں گے
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20مئی 2020ء) سعودی مملکت میں بیشتر جرائم میں ملوث افراد کو کوڑے مارے جاتے ہیں۔ یہ سزا کئی صدیوں سے رائج ہے، جس پر مغربی ممالک کی جانب سے بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ تاہم آج کے روز سے مملکت بھر میں کوڑوں کی سزا باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ سعودی عرب کی وزارتِ عدل نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ”اب کوڑوں کے متبادل کے طور پر جیل یا جرمانے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

عدالتیں مقدمات کی سماعت کریں گی،ان کا جائزہ لیں گی اور ہر مقدمے کا اس کی نوعیت کے اعتبار سے منصفانہ فیصلہ کریں گی۔“العربیہ نیوز کے مطابق سعودی وزیر انصاف ولید السمعانی نے اس ضمن میں منگل کو تمام عدالتوں کو ایک سرکلر جاری کردیا ہے اور اس میں انھیں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے کہ عدالتوں کو تعزیر کے طور پر اب کوڑے لگانے کی سزا دینے کے بجائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دینی چاہئیں۔

(جاری ہے)

سعودی عرب کی عدالتِ عظمیٰ نے اپریل میں ماتحت عدالتوں کے نظام میں ایک شاہی فرمان کے تحت کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔عدالتِ عظمیٰ کے جنرل کمیشن نے عدالتوں کے لیے رہ نما اصولوں پر مبنی ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔اس میں انھیں ہدایت کی تھی کہ وہ مختلف تعزیری جرائم کے مرتکب افراد کو اب کوڑے مارنے کے بجائے صرف جرمانہ عاید کرسکتی ہیں یا قید کی سزا سنا سکتی ہیں یا بیک وقت یہ دونوں سزائیں سنا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ تعزیر کے زمرے میں ایسے جرائم آتے ہیں جن کی شریعت اسلامی نے سزا(حد) مقرر نہیں کی ہے اور قاضی (جج) قرآن وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے ان کی سزاوٴں کا تعیّن کرسکتا ہے۔سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن نے کوڑوں کی سزا کے خاتمے کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ایک اہم عدالتی اصلاح ہے۔اس کا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد کی براہِ راست نگرانی میں نفاذ کیا گیا ہے۔

یہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔یہ گذشتہ پانچ سال کے دوران میں کی جانے والی انسانی حقوق کی ستر اصلاحات میں سے ایک ہے۔کمیشن کے مطابق ”اس عدالتی اصلاح سے سعودی عرب میں مقیم شہریوں اور مکینوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے،خواتین ، ورکروں ، نوجوانوں اور ضعیف العمر افراد سمیت سب کا معیار زندگی بلند ہوگا۔

“سعودی کمیشن کا کہنا تھا کہ مملکت میں ایک عرصے سے اس بات پر اتفاق رائے پایا جارہا تھا کہ کوڑوں کی سزا موجودہ صورت حال سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہے۔بہت سے مقدمات میں تو جج صاحبان خود ہی قانون کی تشریح کرتے ہوئے ملزموں کو کوڑے مارنے کی سزا سنارہے تھے۔چند ہفتے قبل سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک فرمان کے ذریعے 18 سال سے کم عمری میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو سنائی گئی سزائے موت بھی ختم کردی تھی۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments