سعودی عرب کے تمام اسکولز میں حاضری کے لیے کورونا ویکسین لازمی قرار دے دی گئی

وزارت تعلیم کے مطابق ابتدائی جماعتوں کو طلبا کو فی الحال آن لائن کلاسز سے ہی تعلیم دی جائے گی

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ 21 اگست 2021 10:26

سعودی عرب کے تمام اسکولز میں حاضری کے لیے کورونا ویکسین لازمی قرار دے دی گئی
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔21 اگست 2021ء) سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے اسکولز کھُلنے کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسکولوں میں واپسی کے لیے 12 سے زاید عمر کے طلباء اور طالبات کے لیے اینٹی کورونا وائرس ویکسین کی دو مکمل خوراکیں لگوانا بنیادی شرط قرار دی گئی ہے۔سعودی وزیر تعلیم حمد آل الشیخ نے یونیورسٹی کی تعلیم ، تکنیکی تربیت ، انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری مراحل میں حاضری کی واپسی کا اعلان کیا ۔

العربیہ نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان تمام مراحل میں واپس آنے والے طلبا کے لیے کرونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانا لازمی ہے۔ تاہم ابتدائی جماعتوں کے طلبا کو’مدرستی‘ پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن پڑاھا جائے گا اور اس کے لیے سہ پہر 3:30 سے شام 7 بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

وزیر تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ نجی اور غیر ملکی تعلیمی اسکولوں کو پرائمری اورچھوٹی کلاسوں کے طلبہ کی حاضری سے مستثنیٰ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ سرکاری اور نجی تعلیم میں فرق کرنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے جمعرات کو سرکاری کمیونیکیشن پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی کہ جن طلباء کو کرونا ویکسین کی دو خوراکیں نہیں ملی ہیں وہ تعلیمی ادارے میں حاضر نہیں ہوسکیں گے تاکہ دیگر طلبا اور ان کے خاندانوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ اسکولوں کا عملہ ’میرا اسکول‘ پلیٹ فارم پر طلباء کے لیے روزانہ کے اسباق اپ لوڈ کریگا تاکہ طلباء ویکسین لگوانے تک پڑھائے جانیوالے اسباق سے محروم نہ رہیں۔

نیز پلیٹ فارم پر متبادل تعلیمی مواد دستیاب رہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے ابتدائی مرحلے میں خواتین اساتذہ کی شرح 40 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اگلے تعلیمی سال کے لیے1497 کلاسز کنڈرگارٹن میں شامل کی گئی ہیں۔ ان میں 34،500 بچے اور بچیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 7923 پرائمری اسکولوں کی کلاسز شروع کی گئی ہیں۔عن قریب دو لاکھ5 ہزار سے زائد طلباء وطالبات اسکولوں میں آئیں گے جن کی تعلیم ’پری اسکول‘ میں خواتین اساتذہ کے سپرد کی جائے گی۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments