”اگر کسی کی بغیر اجازت تصویر یا ویڈیو بنائی تو 5 لاکھ ریال اور ایک سال قید ہو گی“

سعودی طلباء کو موبائل اسکول لے جانے کی اجازت کے بعد اہم وارننگ بھی جاری ہو گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل 31 اگست 2021 10:24

”اگر کسی کی بغیر اجازت تصویر یا ویڈیو بنائی تو 5 لاکھ ریال اور ایک سال قید ہو گی“
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔31 اگست 2021ء) سعودی عرب میں کسی شخص کی نجی زندگی کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے۔ خصوصاً خواتین کی نجی زندگی کے تحفظ سے متعلق موثر قوانین نافذ ہیں جن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جاتا ہے۔ اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جاتی ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے افراد کی پرائیویسی کا تحفظ کرنے کی خاطر گزشتہ کچھ سالوں کے دوران بہترین سائبر قوانین بنائے گئے ہیں۔

اس حوالے سے سعودی پبلک پراسیکیوشن نے تنبیہ کی ہے کہ تمام افراد جدید ترین الیکٹرانک ساز و سامان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں تاہم اس بات کا خیال رہے کہ دوسروں کی اجازت کے بغیر ان کی کوئی تصویر یا ویڈیو بناناایک قابل مواخذہ جرم ہے۔ جو لوگ اس جرم کا ارتکاب کریں گے انہیں ایک سال قید ہو گیا اور 5 لاکھ ریال جرمانہ بھی بھگتنا پڑے گا۔

(جاری ہے)

اس لیے ایسی کسی منفی سرگرمی سے خود کو پوری طرح دُور رکھیں۔

سعودی پبلک پراسیکیوشن نے واضح کیا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق ان اسکول کے اسٹوڈنٹس پر بھی ہو گا جنہیں حال ہی میں اپنے ساتھ موبائل اسکول لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہیں اپنے موبائلز کا مثبت استعمال کرنا ہوگا۔ کسی بھی نوعیت کی منفی سرگرمی انہیں بڑی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق موبائل کا غلط استعمال، کسی کی نجی زندگی میں مداخلت اور اس کی تشہیر کرنا، ان کی بغیر اجازت تصویر یا ویڈیو بنانا اور اس کی آڑ میں ان پر غلط الزامات عائد کرنا اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنا یہ سب قابل گرفت جرم ہیں۔تمام اسٹوڈنٹس کو بھی احتیاط برتنا ہو گی۔ اسکولز کے احاطوں میں ویڈیو یا تصویر بنا کر پوسٹ کرنے سے بھی باز رہنا ہوگا۔ 

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments