جدہ میں خطرناک ٹریفک حادثہ، کار ڈرائیور اُڑتا ہوا کئی فٹ بلندی سے گر کر جاں بحق، ویڈیو وائرل

تیز رفتاری کے باعث گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہوگئی جس کی وجہ سے وہ کئی مرتبہ الٹنے کے بعد دور جاگری

Sajid Ali ساجد علی منگل 14 ستمبر 2021 15:24

جدہ میں خطرناک ٹریفک حادثہ، کار ڈرائیور اُڑتا ہوا کئی فٹ بلندی سے گر کر جاں بحق، ویڈیو وائرل
جدہ ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 ستمبر 2021ء ) سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں خطرناک ٹریفک حادثے کے دوران کار ڈرائیور کئی فٹ کی بلندی سے گر کر جاں بحق ہوگیا۔ اردو نیوز نے سبق ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جدہ اور مکہ کے درمیان ٹیکنالوجی کالج کے قریب ٹریفک حادثے کے باعث گاڑی کئی مرتبہ الٹی اس دوران کار کا ڈرائیور اڑتا ہوا کئی فٹ بلندی تک جانے کے بعد فٹ پاتھ پر گر کر موت کے منہ میں چلا گیا ، حادثے کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

حادثے کے بارے میں جدہ کے محکمہ ٹریفک نے بتایا کہ یہ حادثہ ٹیکنیکل کالج کے سامنے والی سڑک پر پیر کے روز صبح اس وقت پیش آیا جب ڈرائیور سے گاڑی بے قابو ہوگئی جس کے باعث وہ کئی مرتبہ الٹنے کے بعد دور جاگری ، اسی دوران ڈرائیور بھی کئی فٹ ہوا میں بلند ہوا اور نیچے گرتے ہی انتقال کرگیا جو کہ سعودی شہری تھا۔

(جاری ہے)

 

 
واضح رہے کہ سعودیہ میں گزشتہ کچھ عرصہ سے ٹریفک حادثات میں اضافہ ہونے لگا ہے، ہر روز کسی نہ کسی ٹریفک حادثہ میں لوگوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں ، اس حوالے سے سعودی پبلک پراسیکیوشن نے وارننگ جاری کردی ہے کہ تیز رفتار سے گاڑی چلانا ایک سنگین جرم ہے جس پر قید بھی ہو سکتی ہے ، حدِ رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلانا ڈرائیور کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کی زندگی کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔

پبلک پراسیکیوشن نے واضح کیا ہے کہ جن شاہراہوں پر حدِ رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے، اگر کسی نے اس سے 30 کلومیٹر فی گھنٹہ اضافی رفتار سے گاڑی چلائی اور اس دوران کوئی حادثہ پیش آگیا تو اسے سنگین جرم شمار کر کے مقدمہ چلایا جائے گا ، یہی صورت حال 120 کلومیٹر حدِ رفتار والی شاہراہ پر 50 کلومیٹر فی گھنٹہ اضافی رفتار سے گاڑی چلانے پر لاگو ہو گی ، حدِ رفتار سے تجاوز کے دوران کسی حادثے کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہونے، معذوری ہونے یا ایسی گہری چوٹ آنے جس کی شفایابی پر 21 روز سے زائد گزر جائیں، ان تمام صورتوں میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments