غیر قانونی طور پر مکّہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 76 ہزار افراد کو واپس لوٹا دیا گیا

حج سیزن کے آغاز سے قبل مکّہ مکرمہ کے تمام داخلی راستوں پر اسپیشل حج ٹاسک فورس اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جولائی 11:36

غیر قانونی طور پر مکّہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 76 ہزار افراد ..
مکّہ مکرمہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10جولائی 2019ء) رواں سال حج بیت اللہ تقریباً ایک ماہ کی دُوری پر ہے۔ سعودی عرب میں مقیم اکثر تارکین وطن یہاں اپنی موجودگی کا فائدہ اُٹھا کر حج سے کچھ روز پہلے مکّہ مکرمہ میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں تاکہ غیر قانونی طور پر حج ادا کر سکیں۔ لیکن ان ہزاروں افراد کی موجودگی کے باعث حج انتظامیہ کو انتظامات میں بہت دِقت پیش آتی ہیں اور بیرونِ ملک سے آئے عازمین کے رہائش و قیام طعام کی ذمہ داری بھی درست انداز میں انجام نہیں طے پاتی۔

اسی وجہ سے گزشتہ کچھ سالوں سے سعودی حکومت نے حج سے چند روز قبل مکّہ مکرمہ میں بغیر پرمٹ کے داخل ہونے والوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تاہم اس بار حج کے آغاز سے ایک ماہ قبل ہی پرمٹ کی پابندی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

مکّہ مکرمہ گورنریٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بغیر پرمٹ کے مکّہ مکرمہ میں داخل ہونے کی کوشش پر 76 ہزار افراد کو چیک پوسٹوں سے واپس بھیج دیا گیا۔

سعودی قانون کے مطابق حج سیزن کے دوران صرف وہی لوگ مکّہ میں داخل ہو سکتے ہیں جن کے اقامہ مکّہ مکرمہ کی جوازات سے جاری ہوئے ہیں۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ مکّہ مکرمہ میں ہی مقیم ہیں ۔ جبکہ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والے افراد کو بھی اس موقع پر جوازات کی جانب سے خصوصی پرمٹ جاری کیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ کسی شخص کو بھی حج سیزن کے دوران مکّہ مکرمہ جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

حج سیزن کا آغاز 25 شوال سے ہوتا ہے اور 13 ذوالحجہ تک جاری رہتا ہے۔ حکام کے مطابق مملکت کے دیگر شہرو ں میں مقیم افراد عید الفطر کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں عارضی رہائش اختیار کر لیتے ہیں اور ایام حج یعنی 8 ذوالحجہ کی شب مکہ مکرمہ سے نکل کر مشاعر مقدسہ روانہ ہو جاتے ہیں۔ یہ غیر قانونی طور پر حج کرنے والے افراد راستوں میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں جس کے سبب لوگوں کی آمد ورفت متاثر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس بار کافی روز پہلے ہی یہ پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

مکہ مکرمہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments