مسجد الحرام کی 30 سالوں سے صفائی کرنے والا پاکستانی کارکن کون ہے؟

65 سالہ جمسین خان نے بتایا کہ گزشتہ 30 سالوں میں یہاں صفائی کے نظام میں بے شمار تبدیلیاں آ چکی ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ اگست 12:59

مسجد الحرام کی 30 سالوں سے صفائی کرنے والا پاکستانی کارکن کون ہے؟
مکہ مکرمہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 7اگست 2019ء) مسجد الحرام میں صفائی اور دیگر فرائض انجام دینے والے بہت خوش نصیب ہیں کیونکہ کروڑو ں مسلمانوں کی دلی آرزو ہوتی ہے کہ اُنہیں زندگی میں کم از کم ایک بار اللہ کے گھر کی زیارت ضرور نصیب ہو۔ مگر جو لوگ یہاں کئی سالوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے خصوصی کرم و التفات کے حقدار ٹھہرے ہیں۔

مسجد الحرام میں زیادہ تر صفائی کارکنان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ایک ایسا ہی صفائی کارکن 65 سالہ جمسین خان ہے۔ اُردو نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 65 سالہ پاکستانی صفائی کارکن تقریباً 30 سالوں سے اللہ کے پاک گھر میں صفائی کا کام انجام دے رہا ہے۔ جمسین خان نے اپنے گزشتہ 30 سالوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا ” ’اللہ کا شکر ہے میں یہاں 30برس سے ہوں۔

(جاری ہے)

اسلامی دنیا کی سب سے پہلی اور محترم مسجد الحرام میں صفائی پر مامور ہوں۔ڈیوٹی کبھی خارجی صحنوں کی صفائی کی ہوتی ہے کبھی صفا و مروہ کی صفائی کا کام دے دیا جاتا ہے۔کبھی مسجد الحرام کے اندرونی صحنوں کی صفائی کی ذمہ داری مل جاتی ہے‘۔جمسین نے بتایا کہ مضان المبارک میں افطار کے فوراً بعد جس پیار ،لگن اور خلوص کے ساتھ یہاں صفائی کی جاتی ہے وہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

عمرے اور زیارت پر آنیوالے لوگوں کے دلوں سے صفائی کارکنان کیلئے دعائیں نکلتی ہیں۔یہاں آنیوالے بڑی تڑپ کے ساتھ دعائیں کرتے ہیں۔جو لوگ پہلی مرتبہ خانہ کعبہ کو اپنے سامنے دیکھتے ہیں انکی کیفیت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ نجانے کب سے زیارت کے خواب دیکھ رہے تھے۔ خانہ کعبہ کو اپنے سامنے پاکر گریہ وزاری کے ساتھ کچھ اس انداز سے دعائیں مانگتے ہیں کہ دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ رحمان و رحیم نے انکی دعا ضرور قبول کر لی ہو گی‘۔

جمسین نے بتایا کہ 30برس کے دوران مسجد الحرام کی صفائی کے نظام میں بڑی تبدیلیاں ہوئی۔ ہر سال صفائی کے وسائل بدل جاتے ہیں۔جدید ترین مشینوں سے صفائی کا کام لیا جانے لگا ہے۔جمسین نے بتایا کہ ایک بار حرم شریف کی صفائی کے دوران اچانک ایک ذہنی مریض نے دھار دار آلے سے اُس پر حملہ کر کے اُسے شدید زخمی کر دیا تھا۔ مگر وہ اللہ کی مہربانی سے وہ بچ گیا اور اس نے اللہ کی خاطر حملہ آور کو معاف کر دیا تھا۔

مکہ مکرمہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments