مکّہ میں گزشتہ روزہونے والے قتل کا معمہ حل ہو گیا

نوجوان نے سگریٹ پینے سے منع کرنے پر ساتھی کو قتل کیا تھا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ مئی 11:03

مکّہ میں گزشتہ روزہونے والے قتل کا معمہ حل ہو گیا
مکہ مکرمہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20مئی 2020ء) گزشتہ روز مکہ مکرمہ کے ایک ہوٹل میں قتل کی بھیانک واردات رونما ہوئی تھی، جس کا پولیس نے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی سُراغ لگا لیا ہے اور ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سعودی ویب سائٹ سبق کے مطابق گزشتہ روز مکہ مکرمہ کے علاقے العزیزیہ کے ایک ہوٹل میں ایک شخص کی لاش مِلی تھی، جس کے کپڑوں پر خون کے دھبے تھے۔

ہوٹل کی انتظامیہ نے کمرہ کرائے پر لینے والے شخص کو خون میں لت پت دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی ۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو یہ شخص مردہ پایا گیا۔ تلاشی لینے پر کمرے کے باہر رکھے کوڑے دان سے ایک خنجر برآمد ہوا۔پولیس نے ہوٹل میں نصب کلوز سرکٹ کیمروں کی مدد لی تو اس میں ایک شخص کو لفٹ سے نکل کر مقتول کے کمرے کی جانب دیکھا گیا۔

(جاری ہے)

اس شخص کے ہاتھ میں ایک بیگ بھی تھا۔

چند منٹوں بعد یہ شخص باہر آیا تو اس کے کپڑوں پر خون کے دھبے نظر آ رہے تھے۔ پولیس نے ملزم کی نشاندہی کرنے کے بعد اسے اگلے چند گھنٹوں میں ہی گرفتار کر لیا جو کہ قریبی علاقے میں ہی رہائش پذیر ہے۔ پولیس کے مطابق قاتل سعودی شہری ہے۔ تفتیش کے دوران اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ 30 سالہ قاتل نوجوان نے بتایا کہ وہ 47 سالہ مقتول کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں ہی مقیم تھا۔

چند روز قبل وہ کمرے کی بالکونی میں کھڑا سگریٹ پی رہا تھا، جس پر اس کا ساتھی اسے بُرا بھلا کہنے گا۔ دونوں میں جھگڑا بڑھ گیا تو نوجوان اسی وقت ہوٹل چھوڑ کر چلا گیا۔ مگر اس کے غصے کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تو وہ واردات کے روز صبح ساتھی کے کمرے میں آیا اور اس پر خنجر کے کئی وار کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ ملزم کو مزید تفتیش کی غرض سے استغاثہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل مدینہ منورہ پولیس نے چوری اور ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث 20 پاکستانیوں پر مشتمل ایک بڑے گینگ کو گرفتار کیا تھا جو مجموعی طور پر 90 لاکھ 70 ہزار مالیت کی ہائی وولٹیج کیبل چوری کر چکے تھے۔ یہ گروہ حکومتی پراجیکٹس کی سائٹس کے علاوہ نجی پراجیکٹس سائٹس سے بھی لاکھوں ریال کی کیبل چوری کر چکا تھا۔ یہ گروہ وارداتوں کے دوران وہاں موجود چوکیداروں اور سیکیورٹی گارڈز پر بھی حملے کرتا تھا اور انہیں رسیوں سے باندھ کر تشدد کرتا تھا۔

اس پاکستانی گینگ نے مدینہ کے علاوہ ینبع، مکہ مکرمہ، جدہ، طائف اور حائل میں مجموعی طور پر 21وارداتیں انجام دی تھیں۔ یہ ڈکیت گینگ اس قدر خوفناک تھا کہ انہوں نے لُوٹی گئی رقم کی تقسیم کے معاملے پر اپنے ہی ایک ساتھ کوقتل کر نے کے بعد اس کی لاش جلا کر دفن کر دی تھی۔ 

مکہ مکرمہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments