ریاض: بے روزگار سعودی انجینئرز کو بڑی خوشخبری سُنا دی گئی

12 ہزار بے روزگار انجینئرز کو 6 ماہ کے اندر نوکری دے دی جائے گی

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جنوری 13:06

ریاض: بے روزگار سعودی انجینئرز کو بڑی خوشخبری سُنا دی گئی
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9 جنوری 2019ء) مملکت میں ہزاروں بے روزگار سعودی انجینئرز کے لیے شاندار خبر آ گئی۔ سعودی انجینئرز کونسل کے مطابق اگلے چھ ماہ کے اندر اندر 12 ہزار بے روزگار سعودی انجینئرز کو ملازمت دے دی جائے گی۔ کونسل کے ایک عہدے دار کے مطابق اس وقت مملکت میں ہزاروں سعودی انجیئنرز بے روزگار ہیں۔ ان میں سے بہت سارے سوشل انشورنس سسٹم میں بھی شامل ہیں۔

ان کی ماہانہ تنخواہ 3500ریال سے زیادہ نہیں۔ انجینئرز کونسل سے رجسٹرڈ شُدہ سعودی انجینئرز کی گنتی 26ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ کونسل کے غیر ملکی انجینئرز ممبران کی گنتی ایک لاکھ پچپن ہزار کے قریب ہے۔ ماضی میں غیر مُلکی انجیئنرز کی گنتی ایک لاکھ چورانوے ہزار تک پہنچ گئی تھی تاہم ان میں سے چالیس ہزار کے قریب انجیئنرز مملکت کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔

(جاری ہے)

سعودی کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں 10 فیصد سعودی انجینئرز تعینات کریں گے۔ سعودی انجینئرز کو روزگار دینے سے قبل ٹریننگ کورسز بھی کروائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل وزارت محنت و سماجی بہبو د اور سعودی انجینئرز کونسل کی مشترکہ میٹنگ کے دوران فیصلہ کیا گیا تھا کہ سعودی مملکت میں مقیم کسی غیر مْلکی انجینئر کو اپنا پیشہ تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔

جبکہ 5 برس سے کم پیشہ ورانہ تجربہ رکھنے والے غیر مْلکی انجینئرز پر ملازمت کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔انجینئرز کونسل کے چیئرمین سعد الشہرانی نے بتایا کہ تعمیراتی شعبے میں سعودائزیشن پر عمل درآمد کی خاطر کنسلٹنسی اور انجینئرنگ کے ہر ٹھیکے دار کو 10 فیصد سعودی انجینئرز تعینات کرنے کا پابند کیا جائے گا۔ نجی اور سرکاری کمپنیوں کے اشتراک سے انجینئرز کے لیے روزگار ورکشاپ کا بھی اہتمام کیا جائے گا جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کمپنیوں کو کن کن شعبوں میں کتنے انجینئرز کی ضرورت ہے۔

الشہرانی نے مزید بتایا کہ کوئی بھی غیر ملکی انجینئر B. Tech. کے فوراً بعد ہی سعودی عرب میں ملازمت نہیں کر سکتا۔ صرف انہی افراد کو انجینئرنگ کے شعبے میں ملازمت دی جا سکتی ہے جو کم از پانچ سالہ تجربے کا سرٹیفکیٹ پیش کریں گے۔ یہ سرٹیفکیٹ اپنے مُلک کے سرکاری ادارے سے کسی پراجیکٹ میں اسسٹنٹ انجینئر کے طور پر خدمات انجام دینے سے متعلق ہونا چاہیے۔جو لوگ سعودی عرب میں انجینئرنگ کے شعبے میں ملازمت کے خواہش مند ہیں، ان کا سعودی مملکت میں آنے سے قبل ان کے آبائی وطن میں ہی امتحان لیا جائے گا اور اس امتحان میں پُورا اُترنے کے بعد ہی کوئی سعودی ادارہ یا فرم انجینئر کو ویزہ جاری کر سکے گی۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments