سعودی مملکت میں 40 ہزار سے زائد خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری

گزشتہ سال ڈرائیونگ پر سے پابندی ہٹنے کے بعد ہزاروں خواتین کاریں چلاتی نظر آتی ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جنوری 16:20

سعودی مملکت میں 40 ہزار سے زائد خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10جنوری2019ء ) سعودی مملکت میں اب تک 40 ہزار سے زائد خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ بات سعودی محکمہ ٹریفک کے ڈائریکٹر میجر جنرل محمد البسامی نے بتائی۔ اُن کا کہنا تھا کہ خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے کے حوالے سے ڈرائیونگ سکول محکمہ ٹریفک کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ ان ڈرائیونگ سکولز میں بین الاقوامی معیارات کے مطابق خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت دی جا رہی ہے۔

البسامی نے مزید بتایا کہ ٹریفک خلاف ورزیوں پر پوائنٹ سسٹم کا نفاذ فی الحال نہیں ہونے جا رہا، یہ دو سال بعد نافذ ہو گا۔ جبکہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کے استعمال پر 500ریال جرمانے کے معاملے پر فی الحال کوئی غور و خوض نہیں کیا جا رہا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال 24 جُون کو سعودی خواتین پر تقریباً چالیس سالوں سے عائد ڈرائیونگ کی پابندی ہٹا لی گئی تھی۔

(جاری ہے)

جس کا پُوری دُنیا میں خیر مقدم کیا گیا تھا۔ نومبر 2018ء کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ سعودی خواتین کو فیملی ٹیکسیاں چلانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ تاہم فیملی ٹیکسیز کی سروس کے لیے لائسنس خواتین کو انفرادی طور پر نہیں دیئے جائیں گے بلکہ اس مقصد کے لیے چند کمپنیوں کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔ اس نوعیت کی ٹیکسیاں صرف کوالیفائیڈ سعودی خواتین چلا سکیں گی۔

پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے اس حوالے سے قواعد و ضوابط وضع کیے ہیں ، جن کے مطابق خواتین ڈرائیورز ایسی سواریاں نہیں بٹھا سکتیں جن میں کوئی بالغ خاتون شامل نہیں ہو گی۔ جبکہ خاتون ڈرائیور کے ساتھ والی فرنٹ سیٹ پر کوئی مرد یا نو عمر لڑکا بٹھانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ جن کمپنیوں کو فیملی ٹیکسیاں چلانے کے لیے لائسنس دیئے جا رہے ہیں اْن کی گاڑیوں میں الیکٹرانک پیمنٹ سسٹم اور GPS نیوی گیشن کا ہونا لازمی ہے۔

خواتین ٹیکسی ڈرائیورز پر روڈ ٹرانسپورٹ سے متعلق کسی اور سرگرمی پر حصّہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے تاہم اس سلسلے میں مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ فیملی ٹیکسی سروس کا لائسنس صرف اْن کمپنیوں کو جاری کیا جائے گا جن کے پاس اس سروس کے لیے کم از کم 10 گاڑیاں دستیاب ہوں گی۔ کوئی بھی گاڑی پانچ سال سے زیادہ پْرانی نہیں ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ تمام فیملی ٹیکسیز پر ایسی سکرینوں کا نصب ہونا ضروری ہے جن میں ڈرائیور کا نام، کمپنی کا نام اور اْس کے رابطہ نمبر، پلیٹ نمبر اور دیگر معلومات ظاہر ہو رہی ہوں۔سعودی خواتین نے پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے اس فیصلے کو بہت زیادہ سراہا ہے۔ اْن کا کہنا ہے کہ اْنہیں کئی بار گھر کے کسی مرد کے بغیر باہر جانا پڑتا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور کے مرد ہونے کی صورت میں وہ خود کو غیر محفوظ خیال کرتی ہیں اور اُنہیں بعض اوقات کوفت بھی ہوتی ہیں۔ تاہم اپنی ہم جنس خاتون ڈرائیور کی صورت میں وہ اپنا سفر بہت پْرسکون اور آرام دہ خیال کریں گی اور اگر کسی ایمرجنسی کی صورت میں شام کے اوقات میں بھی باہر جانا پڑے گا تو بغیر کسی فکر کے کے منزلِ مقصود پر پہنچ جائیں گی۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments