سعودی مملکت میں کفیل کی تبدیلی کے حوالے سے ترمیمی قانون جاری

نقل کفالہ کے لیے کسی آجر کے ہاں مخصوص مُدت تک کام کرنے کی شرط ختم

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ جنوری 13:52

سعودی مملکت میں کفیل کی تبدیلی کے حوالے سے ترمیمی قانون جاری
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جنوری 2019ء) وزارت محنت نے نقل کفالہ سے متعلق نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیئے ہیں۔ جن کے مطابق نقل کفالہ کے لیے کسی غیر مُلکی کارکن کو کسی آجر کے پاس مخصوص مُدت تک کام کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی غیر مُلکی کارکن ایک ادارے سے دُوسرے ادارے میں نقل کفالہ کی درخواست دیتا ہے اور منقول الیہ ادارے کے پاس اُس غیر مُلکی کارکن کا اقامہ یا ورک پرمٹ ختم ہو گیا ہو، یا اُس کی تجدید نہ کروائی گئی ہو، یا اُس کے مملکت میں آنے کے تین ماہ بعد بھی اُس کا ورک پرمٹ اور اقامہ نہ بنایا گیا ہو، تو ایسی صورت میں اُس کا نقل کفالہ نہیں ہو سکے گا۔

جن ممالک کے کارکنان کے نقل کفالہ پر پابندی عائد ہے، وہ بھی نقل کفالہ کی سہولت سے فائدہ نہیں اُٹھا سکیں گے۔

(جاری ہے)

اگر کوئی آجر ماضی میں اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے میں تاخیر کا مرتکب پایا گیا ہو، تو اُس کے ہاں نقل کفالہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ افراد یا ادارے جو اپنے نام سے کسی غیر مُلکی کو کاروبار کراتے ہوں، یا اپنے کچھ ملازمین یا تمام ملازمین کو کسی اور کے پاس غیر قانونی طور پر کام کی اجازت دیں یا اپنا کاروبار کرنے کے موقع سے نوازیں، ایسے آجرین کے پاس بھی نقل کفالہ نہیں ہو سکے گا۔

نطاقات پروگرام کے رجسٹرڈ اُن غیر مُلکی کارکنان کا نقل کفالہ اُن کے آجر کی اجازت کے بغیر بھی ہو سکتا ہے جن کے ورک پرمٹ یا اقامے کی میعاد ختم ہو گئی ہو۔ اسی طرح نطاقات پروگرام کے تحت آنے والی اُن نئے کارکنان کا اُن کے آجر کی منظوری کے بغیر بھی تبادلہ ہو سکے گا جن کا ورک پرمٹ جاری نہ ہوا ہو۔ مخصوص حالات میں وزارت محنت کسی کارکن کو اُس کے آجر کی مرضی کے بغیر بھی نقل کفالہ کی اجازت دے سکتی ہے۔

جن میں سے ایک صورت یہ بھی ہے کہ آجر اور اجیر کے درمیان کسی معاملے پر عدالت میں مقدمہ چل رہا ہو اور آجر جان بُوجھ کر مقدمہ لٹکا رہا ہو۔ اگر کوئی عدالتی ادارہ کسی کارکن کے نقلِ کفالہ کی اجازت دے دے تو پھر بھی آجر کی کی مرضی کے بغیر ایسا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ادارہ یا آجر مسلسل تین ماہ تک اپنے کارکن کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ کرے یا ادائیگی میں تاخیر سے کام لے، تو بھی وزارت محنت نقل کفالہ کی منظوری دے سکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments