کیا سعودی ہوٹلوں اور ریستورانوں میں شراب پیش کی جائے گی؟

حکومتی ذرائع کی جانب سے وضاحت سامنے آ گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر فروری 15:46

کیا سعودی ہوٹلوں اور ریستورانوں میں شراب پیش کی جائے گی؟
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔4فروری 2019ء) سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ اس ہنگامے کی وجہ ایک سرکاری خط ہے جس میں ایک سرکاری ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فائیور اسٹار ہوٹلوں، بڑے ریسٹورنٹس اور کافی شاپس کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کو نشہ آور مشروبات پیش کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ایک کارنر مخصوص کرنا ہو گا۔

جبکہ شراب پینے والے گاہکوں کا دیگر گاہکوں سے کوئی رابطہ نہ ہو۔ شراب کی بوتلیں کھلے عام بھی نہیں رکھی جائیں گی۔ اس خط میں یہ بھی درج ہے کہ ہوٹل اور ریسٹورنٹس غیر مُلکیوں کے علاوہ سعودی شہریوں کو بھی یہ سروس فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ خط ٹویٹر، فیس بُک، انسٹا گرام اور واٹس ایپ کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی بڑے پیمانے پر گردش کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

اس خط نے سعودی مملکت کے خصوصاً قدامت پسند طبقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

اس معاملے پر سعودی حکومت کے خلاف بہت کچھ کہا جا رہا ہے اور حکمرانوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم اس معاملے پر حکومت کی جانب سے تردید سامنے آ گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا خط جعلی ہے۔ کسی سرکاری ادارے نے ایسا کوئی خط جاری نہیں کیا۔ اس خط کی زبان سے ہی پتا لگتا ہے کہ یہ کسی شخص نے انفرادی طور پر جعلسازی کے ذریعے تیار کیا ہے۔

خط کا سٹائل بھی سرکاری نہیں ہے۔ ایک عام شخص بھی اسے دیکھ کر پتا لگا سکتا ہے کہ یہ جعلسازی سے تیار کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اس خط کی تیاری اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے کا جلد پتا چلا لیا جائے گا۔ کیونکہ یہ جُرم سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس کے مرتکب افراد کو کڑی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments