ریاض: چرس کی اسمگلنگ پر دو پاکستانی گرفتار

سرحدی محافظوں نے مجموعی طور پر 55 ملزمان گرفتار کیے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر فروری 12:04

ریاض: چرس کی اسمگلنگ پر دو پاکستانی گرفتار
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11فروری 2019ء) سرحدی محافظوں کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کی دوران سعودی سرحدی علاقوں کے ذریعے مملکت میں منشیات اسمگلنگ کرنے کی درجنوں وارداتیں ناکام بنا دی گئی ہیں۔ مختلف سرحدی علاقوں سے کارروائیوں کے دوران 55 ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں۔ جن میں دو پاکستانی بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق گرفتار کیے گئے اسمگلروں میں پاکستانیوں کے علاوہ40 ایتھوپیائی باشندے، 10 یمنی، 2 صومالی اور ایک سعودی باشندہ بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دِنوں بھی ایک پاکستانی شہری فضل منان زمان کو موت کی سزا دی گئی تھی۔ ملزم جدہ ایئر پورٹ پر منشیات کی اسمگلنگ کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ جسے عدالت کی جانب سے اسمگلنگ کا الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سُنائی گئی تھی۔

(جاری ہے)

ملزم کو حوطہ بنی تمیم کے علاقے میں سر قلم کر کے نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ گزشتہ ماہ بھی منشیات کی سمگلنگ کی کوشش کے دوران گرفتار ہونے والے پاکستانی اسمگلر نذار احمد ولد گْل احمد کا عدالتی حکم کے مطابق سر قلم کیا گیا تھا۔

اس سے قبل 25 دسمبر 2018ء کو بھی پاکستانی اسمگلر شمس الرحمان کا سر قلم کیا گیا تھا۔ جدہ ایئر پورٹ پر شمس الرحمان کے سامان کی تلاشی لینے پراُس میں سے منشیات برآمد ہوئی جس پراُسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں اُسے سزائے موت سُنائی گئی۔ اس سے قبل دسمبر 2018ء میں ہی ایک اور پاکستانی اسمگلر شاہد اقبال کا عدالتی حکم کے مطابق سر قلم کر دیا گیا۔

شاہد اقبال اپنے پیٹ میں ہیروئن چھُپا کر مملکت میں اسمگل کرنے کی کوشش میں تھا، تاہم ایئرپورٹ حکام نے شک گزرنے پر اُسے گرفتار کر لیا۔ اس سے قبل نومبر کے مہینے میں پاکستانی شہری شاکر اللہ ولد رحمان اللہ کوموت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ شاکر اللہ اپنے پیٹ میں ہیروئن چھْپا کر پاکستان سے سعودی مملکت لایا تھا تاہم کسٹم حکام کی عقابی نظروں سے نہ بچ سکا۔

عدالت نے الزام ثابت ہونے پر اُس کا سر قلم کرنے کی سزا سُنائی تھی۔ جبکہ اس سے پہلے اکتوبر کے مہینے میں بھی دو پاکستانیوں کو ہیروئن کی سمگلنگ کا جُرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی گئی تھی۔ جن میں سے ایک شخص محمد رمضان سردارا بھی مملکت کے ایئرپورٹ پر اْترا تو کسٹم حکام نے شک گزرنے پر اُسے پکڑا تو پتا چلا کہ اْس نے اپنے پیٹ میں ہیروئن چھُپا رکھی تھی، جسے اس نے مملکت میں فروخت کر کے بھاری رقم وصول کرنا تھا۔

عدالت کی جانب سے ملزم کو سزائے موت سْنائی گئی تھی، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزم کا سر قلم کر دیا گیا۔ اکتوبر کے مہینے میں ہی دمام میں ایک اور پاکستانی زاہد الرحمان کا بھی منشیات اسمگلنگ کے الزام میں سر قلم کیا گیا تھا۔ اْس نے بھی اپنے پیٹ میں ہیروئن چھپا رکھی تھی۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments