ہندوستانی ملازم کے خلاف ہراسگی کی شکایت کرنا سعودی خاتون کا جُرم بن گیا

ہوٹل انتظامیہ نے ہندوستانی ملازم کی بجائے سعودی خاتون کو ہی نوکری سے نکال دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر فروری 16:53

ہندوستانی ملازم کے خلاف ہراسگی کی شکایت کرنا سعودی خاتون کا جُرم بن ..
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11فروری 2019ء) دُنیا بھر میں کسی بھی مقام پر اگر ہراسگی کا معاملہ پیش آتا ہے تو اس گھناؤنی حرکت کے مرتکب فرد کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ بھی چلایا جاتا ہے تاکہ اُس جیسی ذہنیت رکھنے والے دیگر افراد کو بھی عبرت حاصل ہو۔ تاہم سعودی عرب میں اُلٹی گنگا بہہ نکلی۔ سعودی خاتون کی جانب سے اپنے ساتھی ملازم کے خلاف ہراسگی کی شکایت کرنا اُس کا سنگین جُرم بن گیا۔

الخبر سے تعلق رکھنے والی سعودی خاتون نے ممتاز سعودی ٹی وی چینل ’روتانا‘ کے خصوصی پروگرام ’سیدتی‘ میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک مقامی ہوٹل میں ملازمہ ہے۔ جہاں اُس کے ساتھ ایک ہندوستانی ملازم بھی کام کرتا ہے۔ اس ملازم کا کردار ٹھیک نہیں ہے۔

(جاری ہے)

اُس نے پہلے بھی کئی بار اُس سے چھیڑ خانی کی کوشش کی اور اکثر نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کرتا تھا۔

وہ اپنے ساتھی ملازم کے رویئے سے بہت نالاں تھی اور اُسے ایک دو بار جھاڑ بھی پلائی تھی کہ وہ اُس سے صرف ڈیوٹی سے متعلق بات چیت کرے، اس کے علاوہ کوئی اور فالتو بات نہ کیا کرے۔ لیکن وقوعہ کے روز یہ بدکردار ملازم اُس کے پاس آیا اور اُس سے بیہودہ گفتگو کرنے لگا اور پھر اس کی جرأت یہاں تک بڑھی کہ اس پاک باز ملازمہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس گھٹیا حرکت پر ملازمہ بُری طرح سے گھبرا گئی اور اپنا ہاتھ چھُڑا کر ہوٹل انتظامیہ کے پاس گئی اور ہندوستانی کی ذلیل حرکت سے آگاہ کیا۔

اُسے یقین تھا کہ انتظامیہ اس ملازم کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے اُسے نوکری سے نکال باہر کرے گی۔ مگر اُس کی حیرت کی اُس وقت انتہا نہ رہی جب ہوٹل انتظامیہ نے ملازم کو نکالنے کی بجائے اُلٹا ملازمہ کو ہی کھڑے کھڑے فارغ کر دیا۔ اپنے خلاف ہونے والی اس ناانصافی پر ملازمہ نے مکتب العمل اور پولیس میں رپورٹ درج کروائی تو ہوٹل انتظامیہ کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ اگلے روز ہی ہوٹل انتظامیہ نے اُسے آفر کی کہ اگر وہ شکایت واپس لے لے تو اُسے 3 ماہ کی اضافی تنخواہ دی جائے گی۔ ملازمہ نے فریاد کی کہ وہ صرف انصاف چاہتی ہے اور اُسے ہراساں کرنے والے کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنے کی خواہش مند ہے۔ تاکہ معاشرے میں اس طرح کی ہراسگی کے رحجان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments