سعودی خواتین ورزش نہ کرنے کے باعث مختلف بیماریاں کا شکار ہونے لگیں

سعودی محکمہ شماریات کے مطابق 91 فیصد سعودی خواتین ورزش سے دُور بھاگتی ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ مئی 12:59

سعودی خواتین ورزش نہ کرنے کے باعث مختلف بیماریاں کا شکار ہونے لگیں
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین- 11 مئی 2019ء) سعودی عرب کے ایک معروف روزنامہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مملکت میں مقامی خواتین میں مختلف نوعیت کی بیماریاں عام ہو رہی ہیں اور ان کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ 91 فیصد سعودی خواتین پابندی سے ورزش نہیں کرتیں۔ صرف 8.9 فیصد خواتین ورزش کرتی ہیں، تاہم ان میں بھی نو عمر لڑکیوں شرح زیادہ ہے جو خود کو فٹ اور سمارٹ رکھنے کی خواہش مند ہیں۔

اخبار نے یہ اعداد و شمار سعودی محکمہ شماریات کی ایک رپورٹ کے حوالے سے شائع کیے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق سال 2018ءکے دوران سعودی عرب کے 13 صوبوں میں ورزش کے حوالے سے سروے کرایا گیا جس میں 26 ہزار خاندانوں کو شامل کیا گیا۔ اس سروے سے پتا چلا کہ سعودی خواتین اور مردوں میں ورزش کرنے کی مجموعی شرح صرف 18.99 فیصد ہے۔

(جاری ہے)

تاہم یہ لوگ بھی ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 150 منٹ ورزش کرتے ہیں اور ان کی عمریں 15 برس یا اس سے زائد ہیں۔

جبکہ وزرش نہ کرنے والی خواتین اور مردوں کی مجموعی شرح 81 فیصد ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جو سعودی خواتین ورزش کرتی بھی ہیںاُن کی ورزش کا ہفتہ وار دورانیہ 150 منٹ سے زائد نہیں ہوتا۔ ورزش کرنے والی خواتین میں 20 سے 24 برس کی خواتین کا تناسب10.73 فیصد ہے۔ 25 سے 29 سال کی عمر کی خواتین کا تناسب 10.18 فیصد جبکہ 65 برس سے زیادہ عمر کی خواتین کا تناسب صرف 2.80 فیصد ہے۔ ورزش کے دوران جدید ایپلی کیشنز استعمال کرنے والے شہریوں کا تناسب 17.90فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ عنوان :

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments