سعودی خواتین نے کک باکسنگ کے خطرناک کھیل میں بھی قدم رکھ دیا

سعودی مارشل آرٹس کونسل کے زیر اہتمام مملکت میں پہلی بار باکسنگ ٹورنامنٹ کا انعقاد

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل مئی 10:14

سعودی خواتین نے کک باکسنگ کے خطرناک کھیل میں بھی قدم رکھ دیا
ریاض( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،14 مئی 2019ء) سعودی خواتین گزشتہ دو تین سالوں سے گھر کی چار دیواری سے نکل کر ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ خطرناک کھیلوں میں حصّہ لینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہیں۔ ایسا ہی ایک خطرناک کھیل کک باکسنگ کا ہے، جس میںسر مُنہ کا پھٹنا معمولی بات ہے، مگر کچھ ایسی سرپھری سعودی خواتین اس شوق کو پُورا کرنے کی خاطر تمام خطرات مول لینے کو تیار ہیں۔

سعودی مارشل آرٹس کونسل کے زیر اہتمام مملکت میں پہلی بار خواتین کے کِک باکسنگ ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوا۔ جس میں سعودی عرب سمیت مراکش، اُردن، سوڈان، یمن، شام اور فلپائن کی کھلاڑیوں نے شرکت کی جن میں سے سب سے زیادہ تمغے سعودی عرب کے فٹنس ٹائم کلب نے اپنے نام کیے۔

(جاری ہے)

کلب کی کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر چھ تمغے جیتے جن میں سے پانچ طلائی اور ایک چاندی کا ہے۔

عربی روزنامے ’عکاظ‘ کے مطابق سعودی خواتین میں کک باکسنگ کو مقبول بنانے کا سہرا ہالہ الحمرانی کے سر جاتا ہے جو معروف ٹرینر ہیں۔ اُن کی کوششوں کے باعث اس وقت سینکڑوں لڑکیاں اس کھیل کی جانب آ چکی ہیں۔ ہالہ نے بتایا کہ اُنہیں بچپن سے ہی مارشل آرٹ سیکھنے کا شوق تھا۔ 12 برس کی عمر سے انہوں نے عملی تربیت حاصل کرنے کا آغاز کیا۔ہالہ نے مزید بتایا کہ امریکہ سے واپس آنے کے بعدانہوں نے بہت کوشش کی کہ اپنے شعبے سے متعلق کوئی کام تلاش کریں لیکن اُنہیں بہت مایوسی ہوئی، بالآخر انہوں نے سعودی خواتین کے لیے کک باکسنگ کا ٹریننگ سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔مملکت کی سطح پر یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین کلب کے مقابلوں کو خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments