سعودی نوجوان موت کے جبڑوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا

سعودی نوجوان صحرا میں گاڑی خراب ہونے کے بعد راستہ بھٹک گیا تھا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل مئی 10:32

سعودی نوجوان موت کے جبڑوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا
 ریاض( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،14 مئی 2019ء) کہتے ہیں جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ ایسا ہی معاملہ ایک سعودی نوجوان کے ساتھ بھی ہوا۔ ایک سعودی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ظلم کمشنری کا رہائشی سعودی نوجوان اکیلا گاڑی میں صحرا کا سفر کر رہا تھا۔ اچانک ایک مقام پر اُس کی گاڑی خراب ہو گئی جو لاکھ کوشش کے باوجود ٹھیک نہ ہو سکی۔ آخر اُس نے تھک ہار کر پیدل سفر کرنا شروع کر دیا۔

سعودی نوجوان کے پاس پانی کا تھوڑا سا ذخیرہ تھا۔ جبکہ دُنیا سے رابطے کی واحد اُمید موبائل فون تھا جس کی بیٹری بھی چارجنگ ختم ہونے کے باعث جواب دے گئی۔ نوجوان نے صحرا کی چلچلاتی دھوپ سے بچنے کے لیے دِن میں چٹان کا سہارا لیا اوررات میں راستے کی تلاش شروع کر دی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب اُس کے پاس پانی کا ذخیرہ ختم ہو گیا۔

(جاری ہے)

پیاس کی شدت سے اُس کے حلق میں کانٹے چُبھ رہے تھے اور جسم میں سے طاقت ختم ہوتی جا رہی تھی۔

نوجوان کو یوں لگا کہ جیس اُس کی زندگی کے خاتمے کا وقت قریب آن پہنچا ہے۔ تاہم اُس نے ہمت نہ ہاری۔ اللہ کا نام لے کر وہ گرتے پڑتے خود کو سنبھالتے چلتا ہی گیا۔ آخر ایک مقام پر اُسے سڑک دکھائی تو اس نے اپنے لاغر اور پیاس سے ٹُوٹے بدن میں تمام تر ہمت یکجا کی اور سڑک کی جانب دوڑ لگا دی۔ سڑک پر پہنچتے ہی وہ بے ہوش ہو گیا۔ جہاں سے گزرنے والے کسی شخص نے اُسے ہسپتال پہنچا دیا۔ نوجوان کو اس وقت بہت حیرانی ہوئی جب اُس نے خود کو ہسپتال میں پایا۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ نوجوان کے جسم میں پانی اور نمکیات کی شدید قلت کے باعث اُس کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا تھا، اگر اُس کو بروقت طبی امداد نہ دی جاتی توبہت قریب تھا کہ وہ دم توڑ جاتا۔ اب اُس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments