سعودی عرب میں اموی دور کی نقش و نگاری والی چٹانیں دریافت

ایک چٹان پر ’108 ہجری ماہ صیام ‘کی تحریر درج ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل مئی 10:59

سعودی عرب میں اموی دور کی نقش و نگاری والی چٹانیں دریافت
ریاض( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،14 مئی 2019ء) سعودی مملکت میں دورِ نبوی سے منسوب سینکڑوں یادگاریں ہیں جو زائرین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ تاہم اب کی بار ایک سعودی شہری نے مملکت کے شمالی علاقے تیما میں پتھروں پر کندہ پُرانی نقش ونگاری کا پتا چلایا ہے۔ یہ دریافت سعودی شہری بندر الغیث نے کی ہیں۔ جو تاریخ اور سیاحت سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے وہ مُلک کے طول و عرض میں موجود بیابانوں اور پہاڑوں کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ اپنے ایک حالیہ سفر کے دوران وہ سعودی عرب کے شمالی علاقے تیما جا پہنچے جہاں اُنہیں پتھروں پر کندہ کی گئی عبارتیں مِلیں، ان میں سے بعض عبارتوں میں رمضان کے حوالے سے پیغامات بھی درج ہیں۔ ایک چٹان پر عربی زبان میں 108 ہجری ماہِ صیام درج ہے۔

(جاری ہے)

اس لحاظ سے یہ چٹان اموی دورِ خلافت کی بنتی ہے۔

بندر الغیث نے سعودی چینل العربیہ کو بتایا کہ انہوں نے تبوک میں قومی ورثے کے تحفظ کے لیے قائم مرکز کے چیئرمین عبدالالہ الفارس سے ملاقات کرکے انہیں تیما میں موجود اس تاریخی ورثے کی موجودگی کے بارے میںبتایا۔ تو انہوں نے میرا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم بھی میرے ساتھ تاریخی چٹانوں کو دیکھنے کے لیے بھیجی۔ان چٹانوں پر کئی دوسری نصوص اور عبارتیں موجود ہیں۔ جس علاقے میں یہ چٹانیں موجود ہیں وہ تبوک گورنری کا حصہ ہے اور نقش ونگاری کی تاریخ اموی خلیفہ ھشام بن عبدالملک کے دور کی معلوم ہوتی ہے۔ چٹان پر ’اہل تیماءکی مغفرت فرما‘، ’ایک سو 8 ھ ماہ صیام‘، ’میں ھود بن میسرہ بن عمر ہوں‘ اور ’استغفراللہ‘ کے الفاظ درج ہیں۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments