سعودی عرب نے سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا

یہ حالیہ فیصلہ پاکستانی ڈگریوں ایم ایس اور ایم ڈی کے حامل ڈاکٹروں کے حوالے سے لیا گیا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ اگست 11:04

سعودی عرب نے سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 7اگست 2019ء) سعودی عرب میں پاکستان کے کئی دہائیوں پُرانے ماسٹرز ڈگری پروگرامز ایم ایس )(ماسٹر آف سرجری) اور ایم ڈی (ڈاکٹر آف میڈیسن) کو مسترد کرد یا ہے اور ان ڈگریوں کے حامل وہ ڈاکٹرزجو سعودی عرب میں مقیم تھے، انہیں نوکریوں سے برطرف کر کے وطن واپس جانے کے لیے تیار رہنے کا حکم سُنا دیا ہے۔ صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی اسی طرح کے اقدامات اُٹھائے ہیں۔

سعودی وزارت صحت نے پاکستان کی ایم ایس / ایم ڈی کی ڈگری مسترد کرنے کی وجہ ان ڈگریوں کے دوران ڈاکٹرز کی تعینات کے لیے ضروری تربیتی پروگرام کا بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ ہونا ہے۔ سعودی وزارت صحت کے اس فیصلے کا نشانہ بننے والے بیشتر ڈاکٹرز وہ تھے، جنہیں 2016ء میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں انٹرویوز کے بعد سعودیہ میں مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

ایک برطرف کیے جانے والے پاکستانی ڈاکٹر نے بتایا کہ سعودی وزارت کے اس فیصلے سے وہ بہت شرمندگی محسوس کر رہے ہیں۔ حالانکہ بھارت، مصر، سوڈان اور بنگلہ دیش میں بھی رائج یہ ڈگریاں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں ملازمتوں کے حصول کی خاطر قبول کر لی جاتی ہیں۔ مذکورہ ڈاکٹر نے بتایا کہ
انہیں سعودی کمیشن فور ہیلتھ اسپیشلٹیز (ایس سی ایف ایچ) کی جانب سے جاری کردہ ملازمت سے برطرفی کا لیٹر موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ 'آپ کی پروفیشنل کوالیفکیشن کی درخواست مسترد کردی گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی پاکستان سے حاصل کردہ ماسٹر ڈگری ایس سی ایف ایچ ایس کے قواعد کے مطابق قابل قبول نہیں'۔

اس حوالے سے یونیورسٹی آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر اسد نور مرزا کا کہنا تھا کہ 'عرب ممالک کے اس اقدام سے پاکستان کے انتہائی قابل طبقے کی تذلیل ہوئی ہے'۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments