سعودی حکومت نے غیر مُلکیوں پر ایک اور شعبے میں ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے

سعودی وزارت محنت نے غیر مُلکیوں کے شاپ مینجر بننے پر پابندی عائد کر دی

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ ستمبر 12:09

سعودی حکومت نے غیر مُلکیوں پر ایک اور شعبے میں ملازمتوں کے دروازے بند ..
مکہ مکرمہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،11ستمبر 2019ء) سعودی حکومت نے غیر مُلکیوں پر ایک اور شعبے میں ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے۔ سعودی وزارت محنت و سماجی بہبود نے غیر مُلکیوں کے شاپ مینجر بننے پر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد یہ اسامی اب صرف سعودی شہریوں کے لیے مخصوص ہو گئی ہے۔ سبق ویب سائٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزارت محنت نے گزشتہ سال 12 شعبوں میں غیر مُلکیوں کی بھرتی پر پابندی کا اعلان کیا گیا تھا، جن میں شاپ مینجر کا عہدہ بھی شامل تھا۔

تاہم شاپ مینجر کی اسامی پر سعودیوں کی 100 فیصد بھرتی کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔ تاکہ لاکھوں دُکانوں پر موجود غیر مُلکیوں کو بتدریج ہٹا کر اُن کی جگہ سعودیوں کو بھرتی کیا جائے ، اور دُکانداروں کا ہرج نہ ہو، اور اس دوران دُکانوں میں کام کرنے والے سعودی ملازمین کو تربیت دے کر یا نئے ملازم رکھ کر انہیں شاپ مینجر کے عہدے کے لیے تیار کیا جائے۔

(جاری ہے)

وزارت کے مطابق یہ ایک سال کی مُدت اب گزر گئی ہے،اس لیے اس فیصلے پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد کسی بھی دُکان پر غیر مُلکی مینجر کی اسامی پر کام نہیں کر سکتا۔ اس حوالے سے مکتب العمل کے سربراہ منصور آل بن علی نے کہا ہے کہ وزارت محنت کی ٹیمیں اس شعبے میں سعودائزیشن کی نگرانی کے لیے مختلف مقامات پر تفتیشی مہم شروع کریں گی، اور جہاں کہیں بھی خلاف ورزی نظر آئی تو دُکان کے مالک کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس شعبے میں 100 فیصد سعودائزیشن کی گئی ہے۔

متعلقہ عنوان :

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments