سعودی عرب میں بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے ویڈیو کلپس کی مانیٹرنگ شروع کر دی گئی

سعودی ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین عواد العواد کی جانب سے ماتحت عملے کو ہدایات جاری کر دی گئیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات ستمبر 10:47

سعودی عرب میں بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے ویڈیو کلپس کی مانیٹرنگ ..
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،19ستمبر 2019ء ) سعودی ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایسے ویڈیو کلپس کی نگرانی کی جائے گی جن میں بچوں کا کسی بھی شکل میں استحصال دکھایا گیا ہو، یا انہیں خوفزدہ کرنے کے لیے کوئی اوچھی حرکت کی گئی ہو۔ کیونکہ اس طرح کی ویڈیوز جاری کرنا بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ان کی زندگیوں کو خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

عواد العواد نے ماتحت عملے کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ بچوں کے ساتھ خطرناک کرتب یا مظاہرے والے ویڈیوز تیار کرنے والے افراد کو پکڑ کر انہیں سزائیں بھی دی جائیں تاکہ آئندہ لوگوں کو ایسا کرنے سے باز رکھا جا سکے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر انہیں بچوں سے متعلق کوئی نامناسب یا تشدد سے بھرپور ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر نظر آئیں تو اس کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اتھارٹیز کو دی جائے۔

(جاری ہے)

عوام ایسے کیسز کی اطلاع وزارت محنت و سماجی بہبود، پولیس اسٹیشنز کے علاوہ انسانی حقوق سے متعلق اداروں کو بھی دے سکتے ہیں۔ اکثر افراد ویڈیوز بنانے کے شوق میں اپنے بچوں کا بھی استعمال کرتے ہیں، جس دوران ذرا سی غفلت سے بچوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ کچھ روز پہلے ایک سعودی باشندے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس نے ایک ہاتھ میں اپنے بچے کو تھام رکھا ہے اور دُوسرے ہاتھ میں پکڑے پستول سے ہوائی فائرنگ کر رہا ہے۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سخت رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ اگر اس شخص کا پستول والا ہاتھ ذرا سا ادھر اُدھر ہو جاتا تو خدانخواستہ بچہ بھی گولی کا نشانہ بن سکتا تھا۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments