سعودی عدالت میں داعش کے 45 مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع

ان ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہونے اور داعش کے حمایتی ہونے کے الزامات ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ اکتوبر 13:14

سعودی عدالت میں داعش کے 45 مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 4 اکتوبر2019ء) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی ایک فوجداری عدالت میں داعش کے مشتبہ دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ کے خلاف مقدمات کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق داعش کا یہ گروپ 45 مشتبہ افراد پر مشتمل ہے۔ جن پر مملکت میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہونے اور داعش کی حمایت اور اس کے تخریبی پرچار کے الزامات ہیں۔

استغاثہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ان مشتبہ دہشت گردوں میں سے کچھ دہشت گردوں نے مختلف مواقع پر متعدد سیکیورٹی افسران کو قتل کیا۔استغاثہ کے مطابق ان دہشت گردوں نے مبینہ طور پر ابہا میں سیکیورٹی فورسز کی مسجد ، نجران میں مسجد المشہد اور الاحساء میں واقع مسجد الرضا میں بم دھماکے کیے تھے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ عرعر میں سکیورٹی فورسز کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا تھا۔

ان کے حملوں کے باعث تین شہری اور پندرہ سکیورٹی افسر مارے گئے تھے۔ ان میں صوبہ القویعیہ میں نظامتِ عامہ تحقیقات کے بریگیڈیئر کتاب الحمادی بھی شامل تھے۔ داعش نے بریگیڈیئر کتاب الحمادی کے قتل کے واقعے کی ویڈیو فلمائی تھی اور پھر انٹرنیٹ پر اس کا پروپیگنڈا کیا تھا۔استغاثہ کے مطابق ان دہشت گردوں نے 2015ء کے بعد ان تمام جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے والے افراد کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ممنوعہ تنظیموں کے افکار کا پرچار کرنے والوں کو بھی قید کی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments