سعودی عرب میں خواتین اور فیملیز کے لیے مخصوص ٹیکسیوں میں اکیلا مرد نہیں بیٹھ سکتا

خواتین ڈرائیورز والی ان ٹیکسیوں میں اگر کوئی مرد اکیلا بیٹھا پایا گیا تو اس پر 1ہزار ریال کا جرمانہ عائد ہو گا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر اکتوبر 10:26

سعودی عرب میں خواتین اور فیملیز کے لیے مخصوص ٹیکسیوں میں اکیلا مرد ..
ریاض (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 اکتوبر2019ء ) سعودی عرب میں خواتین کی جانب سے ٹیکسی ڈرائیونگ کے شعبے میں بھی قدم رکھ دیا گیا ہے۔ اس وقت بہت سی خواتین ٹیکسیاں چلا رہی ہیں تاہم یہ ٹیکسیاں صرف خواتین اور فیملی سروس کے لیے مخصوص ہیں، مرد حضرات ایسی ٹیکسی میں سوار نہیں ہو سکتے، جنہیں کوئی خاتون ڈرائیور چلا رہی ہو۔اس حوالے سے سعودی وزیر ٹرانسپورٹ نے ٹیکسی سروس سے متعلق قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے فیملی اور خواتین کے لیے مخصوص ٹیکسی میں صرف مرد یا زیادہ مردوں کے بیٹھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

عربی روزنامے عکاظ کی جانب سے شائع خبر میں بتایا گیا ہے کہ مملکت میں خواتین اور فیملیز کے لیے مخصوص ٹیکسی میں کوئی مرد خواتین مسافروں کے بغیر نہیں سوار ہو سکتا۔

(جاری ہے)

کیونکہ یہ مخصوص ٹیکسیاں خواتین چلا رہی ہیں اور صرف فیملیز یا خواتین کے لیے ہی مخصوص ہیں ، اس لیے ان میں اکیلے مرد کے بیٹھنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اگر کوئی مرد اس خلاف ورزی کر مرتکب پایا گیا تو اس پر 1000 ریال کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

فیملی ٹیکسی سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں کو بھی ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ خواتین ڈرائیورز والی ان ٹیکسیوں میں کسی مرد کو اکیلے ہونے کی صورت میں سوار نہیں کرائیں گی، مرد صرف اسی صورت میں ان مخصوص ٹیکسیوں میں سفر کر سکتا ہے اگر اس کے ساتھ محرم یا رشتہ دار خواتین بھی ہوں۔جبکہ سعودی محکمہ شماریات نے خواتین ڈرائیوروں کے حوالے سے جاری اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ پر سے پابندی ہٹنے کے بعد کے ایک سال کے عرصے کے دوران بیرون ملک سے 181 خواتین کو ڈرائیونگ کے ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔

ان خواتین کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔ڈرائیورز کے ویزہ پر سعودی مملکت آنے والی خواتین کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اسی شعبے کو اختیار کریں۔ اُن کے آجر یا مالکان کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ خاتون ڈرائیورز سے صرف ڈرائیونگ ہی کروائیں گے۔ اُس سے گھر کے دُوسرے کام کاج نہیں کروائے جا سکتے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments