سعودی عرب میں اہلِ خانہ کے ہمراہ مقیم تارکین وطن میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی

سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق 2020ء میں تارکین کے اہلِ خانہ پر فی کس فیس 400 ریال ماہانہ ہو جائے گی

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر اکتوبر 10:56

سعودی عرب میں اہلِ خانہ کے ہمراہ مقیم تارکین وطن میں پریشانی کی لہر ..
ریاض (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 اکتوبر2019ء ) سعودی عرب میں 2017ء میں تارکین وطن کے اہل خانہ پر ماہانہ فیس عائد کی گئی، جسے مرافقین فیس کا نام دیا جاتا ہے۔اس فیس میں کسی غیر ملکی شخص کی بیوی یا خاوند، بچے اور والدین شامل ہیں۔ اس ماہانہ فیس کے عائد ہونے کے بعد لاکھوں غیر مُلکی وطن واپس جا چکے ہیں۔ کیونکہ مرافقین فیس کی ہر ماہ ادائیگی کم آمدنی والے تارکین وطن کے بس کی بات نہیں تھی۔

2017ء میں مرافقین فیس کا آغاز 100 ریال ماہانہ سے کیا گیا، جسے 2018ء میں بڑھا کر 200 ریال ماہانہ پھر اس کے بعد 2019ء میں بڑھا کر 300 ریال ماہانہ کر دیا گیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق یہ فیس ادا کرنے والے تارکین وطن کی مالی مشکلات میں ایک بار پھر اضافہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ 2020ء کے آغاز میں تارکین کو اپنے ساتھ مقیم اہلِ خانہ کے ہرفرد کے لیے 400 ریال ماہانہ ادا کرنا پڑیں گے جو کہ سالانہ 4800 ریال بنتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس حساب سے اگر ایک شخص اپنے دو بچوں اور بیوی کے ساتھ مقیم ہے تو اسے ان تینوں افراد کے لیے مجموعی طور پر 1200 ریال ماہانہ ادا کرنا پڑیں گے جو کہ سالانہ 14,400 ریال بن جائیں گے۔ ایک متوسط اور کم آمدنی والے ملازم کے لیے اتنی بڑی رقم کی ادائیگی انتہائی مشکل ہو گی۔ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2020ء میں مزید ایسے تارکین وطن جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم ہیں، وہ یا تو اپنے بیوی بچوں کو آبائی وطن واپس بھیج دیں گے، یا پھر ملازمت ترک کر کے ان کے ساتھ ہی وطن واپس سدھار جائیں گے۔

ایک پاکستانی محمد قاسم نے بتایا کہ وہ مملکت میں 2014ء میں آیا، کچھ مہینوں بعداس نے اپنے بیوی بچے بھی ساتھ بُلوا لیے تھے، تاہم 2017ء میں مرافقین فیس کے نفاذ کے بعد اسے مجبوراً اپنے بیوی بچوں کو وطن واپس بھیجنا پڑا۔ اُسے ان کی بہت یاد ستاتی ہے۔ مگر مرافقین فیس کے باعث وہ انہیں اپنے ساتھ نہ رکھنے پر مجبور ہے۔ یہ فیس صرف وہی ادا کر سکتے ہیں جو مملکت میں اچھے عہدوں پر کام کر کے انتہائی معقول تنخواہ حاصل کر رہے ہیں۔ سعودی حکومت کو مرافقین فیس میں کمی لانی چاہیے، تاکہ متوسط طبقے کے لوگ بھی اپنے گھر والوں کو اپنے ساتھ رکھ سکیں۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments