سعودی عرب میں منی لانڈرنگ پر 15 سال قید اور 70لاکھ ریال تک جرمانہ ہو گا

اگر منی لانڈرنگ میں کوئی غیر مُلکی ملوث ہوا تو اُسے سزا کے علاوہ ڈی پورٹ بھی کر دیا جائے گا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل نومبر 11:11

سعودی عرب میں منی لانڈرنگ پر 15 سال قید اور 70لاکھ ریال تک جرمانہ ہو گا
ریاض(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5 نومبر 2019ء) سعودی عرب میں منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو 15 سال قید ہو گی اور 70 لاکھ ریال تک جرمانہ بھی عائد ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں دونوں میں سے کوئی ایک سزا بھی سُنائی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی غیر مُلکی منی لانڈرنگ میں ملوث پایا گیا تو اُسے سزا کی مُدت پُوری ہونے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا جائے گا اور آئندہ سے اُس کا مملکت میں داخلہ ممنوع ہو گا۔

یہ وارننگ سعودی عریبین مانیٹری اتھارٹی (ساما) کے ماتحت انسداد منی لانڈرنگ کی قائمہ مجلس کے اعلامیے میں بتائی گئی ہے۔ ساما کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ سعودی قانون کے مطابق جُرم ہے۔ دُنیا کے کسی بھی مُلک میں منی لانڈرنگ کی اجازت نہیں ہے اور اس جُرم میں ملوث افراد کو سزا کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

کیونکہ منی لانڈرنگ کسی بھی مُلک کی معیشت کو تباہ کرنے کاباعث بنتی ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ہر وہ عمل جس کے ذریعے ناجائز ذرائع سے کمائی دولت کو سفید کرنے کی کوشش کی جائے، منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتی ہے۔ منی لانڈرنگ کرنے والے کے ساتھ ساتھ اس عمل میں کسی بھی سطح کا تعاون کرنے والے کو بھی قید اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔مجلس قائمہ نے واضہ کیا کہ اگر کوئی ملکی یا غیر مُلکی شخص اپنی منی لانڈرنگ یا کسی اور کی منی لانڈرنگ کے بارے میں حکام کو اطلاع دیتا ہے تو ایسی صورت میں اُس کی سزا میں کمی کی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ مملکت میں منی لانڈرنگ سے متعلقہ جرائم سے نمٹنے کی خاطر قائم کی گئی مجلس قائمہ میں انصاف، خارجہ، تجارت و سرمایہ کاری، محنت و سماجی بہبود، خزانہ، داخلہ، اسلامی و دعوتی امور کی وزارتوں کے علاوہ، ریاستی سلامتی کی پریزیڈنسی، پبلک پراسیکیوشن اور کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی کے نمائندے شامل ہیں جو اجلاس کے دوران اپنی تجاویز پیش کرتے ہیں۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments