کفیل سے فرار ہونے والوں کارکنوں کو چھ ماہ قید اور 50 ہزار ریال جرمانہ ہو گا

جوازات کے مطابق ہروب والا کارکن ڈی پورٹ ہونے کے بعد دوبارہ کبھی مملکت نہیں آ سکے گا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل نومبر 11:40

کفیل سے فرار ہونے والوں کارکنوں کو چھ ماہ قید اور 50 ہزار ریال جرمانہ ..
ریاض(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5 نومبر 2019ء) سعودی عرب میں کفیل کے پا س بھاگنے والے غیر مُلکی کارکنوں کوگرفتاری کے بعد چھ ماہ قید کی سزا بھُگتنا ہو گی اور ان پر پچاس ہزار ریال کا جرمانہ بھی عائد ہو سکتا ہے۔ سعودی محکمہ پاسپورٹ (جوازات) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جو کارکن کفیل سے فرار ہوتے ہیں، اُن پر ’ہروب‘ کا جرم لاگو ہوتا ہے، جنہیں گرفتارہونے کی صورت میں سزا دی جائے گی ۔

کیونکہ ہروب سعودی اقامہ و محنت قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ جوازات کے مطابق ’ہروب‘ کے مرتکب کارکن کو سزا کی مُدت پُوری ہونے کے بعد مملکت سے فوری طور پر بے دخل کر دیا جائے گا اور اسے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا، جس کے بعد وہ زندگی بھر سعودی مملکت نہیں آ سکے گا۔ اگر ہروب کے مرتکب کارکن کے پاس اقامہ ہو تب بھی اس کا قیام غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

جوازات کی جانب سے کفیل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے کسی کارکن کے مفرور ہونے کی صورت میں آن لائن سسٹم ابشر کے ذریعے دے گا۔ کفیل کو کسی کارکن کا ہروب ختم کرانے کے لیے 15 دِن کے اندر محکمہ ترحیل سے رجوع کرنا ہو گا۔ تاہم ہروب کا اندراج ہونے کے پندرہ دِن بھی کفیل اسے ختم کرانے کا مجاز نہیں ہو گا۔سعودی محکمہ پاسپورٹ (جوازات) کی جانب سے انتباہ کیا گیا ہے کہ اقامہ و لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غیر مُلکیوں کو پناہ دینے، اُن کی مدد کرنے، اُنہیں ملازمت دینے، ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے اور دیگر نوعیت کی امداد کرنے والوں کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے۔

ایسے اشخاص کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد اُنہیں 6ماہ قید کی سزا جائے گی اور ایک لاکھ ریال کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔اگر کسی شخص نے ایک سے زائد غیر قانونی تارکین کو اپنے ہاں پناہ یا ملازمت دے رکھی ہو گی تو ایسی صورت میں اُس پر جرمانے کی رقم غیر قانونی تارکین کے حساب سے عائد کی جائے گی۔ مثلاً اگر کسی نے دو تارکین کو سہولت فراہم کی ہو گی تو اُسے ایک لاکھ ریال کی بجائے دو لاکھ ریال کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ اگر غیر قانونی تارکین کی مدد کرنے والا غیر سعودی ہوا تو ایسی صورت میں اُسے مذکورہ سزاؤں کے علاوہ ڈی پورٹ بھی کر دیا جائے گا۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments