لاکھوں پاکستانی غیر قانونی تارکین کی وطن واپسی کی اُمیدوں پر اوس پھِر گئی

پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے اقاموں کی مُدت ختم ہونے والے پاکستانیوں کے لیے سہولت صرف ریاض ریجن میں مہیا کی گئی ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل نومبر 12:46

لاکھوں پاکستانی غیر قانونی تارکین کی وطن واپسی کی اُمیدوں پر اوس پھِر ..
ریاض(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5 نومبر 2019ء) گزشتہ روز پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ایسے پاکستانی کارکن جن کے اقاموں کی مُدت ختم ہونے کے باعث اُن کا سعودی مملکت میں قیام غیر قانونی ہو چکا ہے، وہ سفارت خانے سے رابطہ کریں تاکہ اُن کی وطن واپسی کا انتظام کیا جا سکے۔کیونکہ سعودی حکومت نے پاکستان سمیت تمام ممالک کے غیر قانونی تارکین کے لیے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے سفارت خانوں سے رابطہ کر کے وہاں سے اپنے وطن کو واپسی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

تاکہ اُن کی باعزت وطن واپسی کا بندوبست کیا جا سکے۔ اس حوالے سے پاکستانی سفارت خانے میں تعینات ویلفیئر اتاشی محمدود لطیف نے بھی اعلان کیا تھا ۔ تاہم پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے یہ سہولت صرف ریاض ریجن میں دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

جس کے باعث دمام اور جدہ میں مقیم لاکھوں پاکستانی مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانے کے مطابق ریاض میں ادارہ ڈیپوٹیشن سنٹر (ترحیل) کی جانب سے محدود پیمانے پر ایسے تارکین کو وطن بھجوانے کے لیے سہولت مہیا کی گئی ہے جن کے اقاموں کی مدت ختم چکی ہے۔

سفارت خانے کے مطابق یہ سہولت جدہ اور دمام میں فی الحال مہیا نہیں کی گئی، وہاں موجود پاکستانی قونصل خانے میں بھی اس سہولت کی فراہمی شروع ہو جائے گی، جس کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وطن واپسی کی اس اسکیم سے وہی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جن کے اقاموں کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ان کے کفیلوں کی جانب سے اقاموں کی تجدید نہیں کی گئی یا ایسے تارکین وطن جو اپنے کفیلوں کی ملازمت چھوڑ کر مملکت میں رُوپوش ہو چکے ہیں۔ تاہم اس اسکیم سے فائدہ اُٹھانے والے اگلی بار اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ تاہم اس سہولت سے وہ پاکستانی تارکین استفادہ نہیں کر سکیں گے جو عمرہ یا حج ویزے پر مملکت آئے، اور مُدت ختم ہونے کے باوجود زائد عرصہ قیام کیا۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments