سعودی مملکت میں جھوٹی میڈیکل رپورٹ بنانے اور بنوانے پر ایک سال قید ہو گی

پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس جعلسازی پر ایک لاکھ ریال تک کا جرمانہ بھی ہو سکتا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ نومبر 11:50

سعودی مملکت میں جھوٹی میڈیکل رپورٹ بنانے اور بنوانے پر ایک سال قید ..
مدینہ منورہ(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔6 نومبر 2019ء) پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ جھوٹی میڈیکل رپورٹ بنانا اوربنوانا جُرم ہے۔ اس پر ایک برس تک قید اور ایک لاکھ ریال تک کا جرمانہ بھُگتنا پڑے گا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل رپورٹس میں رد و بدل کرنا یا جھوٹی میڈیکل رپورٹ دینا یا افہام و تفہیم یا اس معاملے میں تعاون کرنا، یا میڈیکل رپورٹ کی تیاری میں حصّہ لیناجعل سازی کے زمرے میں آتا ہے۔

جس پر ایک سال تک کی سزا اور ایک لاکھ جرمانہ ہو سکتا ہے۔ سرکاری استغاثہ کی جانب سے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر توجہ دلاتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ جعل سازی کے جرم کے قانون کی دفعہ 14 یہ تحریر ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کرحقیقت کے منافی میڈیکل رپورٹ دے گا یا اس میں کسی طرح کی جعل سازی کا مرتکب ہو گا۔

(جاری ہے)

اسے ایک برس تک قید اور ایک لاکھ تک جرمانے یا دونوں میں سے کوئی ایک سزا دی جائے گی۔

واضح رہے کہ سعودی ہیلتھ انشورنس کونسل کے مطابق مملکت آنے والے سیاحوں کے لیے میڈیکل انشورنس کی مد میں کوریج کی حد بڑھا کر ایک لاکھ ریال مقرر کر دی گئی ہے۔ سیاحوں سے میڈیکل انشورنس فیس کی مد میں صرف 140 ریال وصول کیے جا رہے ہیں جو ویزہ فیس کے ساتھ جمع کرانا لازمی ہیں۔ سیاحوں کے لیے میڈیکل انشورنس کی سہولت مملکت کے تمام شہروں میں کارآمد ہو گی۔

اس حوالے سے ہیلتھ انشورنس کونسل کے ترجمان یاسر المعارک نے ایک سعودی روزنامے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میڈیکل انشورنس پالیسی کے حصول کے بعد مملکت آئے سیاحوں کو میڈیکل سہولتوں کی مد میں کسی قسم کی اضافی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی۔ تمام تر ادائیگیاں میڈیکل انشورنس کمپنی کے ذمہ ہی ہوں گی۔ ہر میڈیکل انشورنس کمپنی اس بات کی پابند ہو گی کہ وہ سیاحوں کو اپنے نیٹ ورک میں موجود تمام طبی سہولتیں مہیا کرے اگر اس کے نیٹ ورک میں موجود طبی اداروں میں کوئی سہولت موجود نہیں تو وہ اپنے نیٹ ورک سے باہر طبی اداروں سے اس سہولت کی فراہمی کو یقینی بنائے گی جس کے تمام تر اخراجات اسی کمپنی کے ذمہ ہوں گے۔

متعلقہ عنوان :

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments