سعودی عرب میں قرنطینہ کا مریض فرار ہونے کی خبر نے خوف و ہراس پھیلا دیا

جازان کے محکمہ صحت کی جانب سے خبر کی وضاحت کر دی گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ مارچ 17:33

سعودی عرب میں قرنطینہ کا مریض فرار ہونے کی خبر نے خوف و ہراس پھیلا دیا
جازان(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 مارچ 2020ء) سعودی عرب میں ایک ایسی خبر پھیل گئی ہے جس نے عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ جازان سے متعلق اس خبر میں کہا جا رہا ہے کہ کورونا کا ایک تصدیق شدہ مریض قرنطینہ سے فرار ہو گیا ہے، جسے ابھی تک پکڑا نہیں جا سکا۔ اُردو نیوز نے سعودی ویب سائٹ سبق کے حوالے سے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ جازان میں کورونا کا ایک مریض قرنطینہ سے بھاگ گیا ہے، جس کی تلاش جاری ہے، مگر ابھی تک اس کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔

سوشل میڈیا پر اس خبر کے باعث عوام اور تارکین بہت پریشان ہیں کہ یہ مفرور شخص نہ جانے کتنے سو افراد سے رابطے میں رہ کر ان میں بھی مہلک وائرس منتقل کر سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے الباحہ کے محکمہ صحت کی جانب سے وضاحت سامنےآ گئی ہے۔

(جاری ہے)

محکمہ صحت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ جازان میں کورونا کے صرف دو مریض ہیں ، دونوں ہی اس وقت قرنطینہ میں موجود ہیں، جن کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر کورونا کے مریض کے فرار کی خبریں محض افواہیں ہیں۔ کوئی مریض قرنطینہ سے فرار نہیں ہوا۔ لوگ بے بنیاد خبروں پر یقین کر کے نہ تو خود پریشان ہوں اور نہ ایسی جھوٹی خبروں والی پوسٹس کو آگے شیئر کر کے مزید لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بنیں۔ مقامی اور تارکین وطن صرف مستند ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں پر ہی یقین کریں۔ریجن میں کورونا کے مریض کے حوالے سے سوشل میڈیا پر افواہ پھیلائی جارہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مریض قرنطینہ کی پابندی نہیں کر رہا اور آزادانہ طریقے سے میل جول جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بات غلط اور بے بنیاد ہے، حقیقت یہ ہے کہ بیرون ملک سے ایک شہری واپس آیا تھا جس پر کورونا کی علامتیں ظاہر نہیں تھیں۔وزارت کے ضوابط کے مطابق شہری کو گھر میں محدود رہنے کی ہدایت کی گئی جس کی وہ پابندی کرتا رہا ہے۔محکمے نے کہا ہے کہ ’کل جمعہ کو لیبارٹری ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی تھی کہ وہ کورونا وائرس کا حامل ہے، تصدیق ہونے پر اسے کنگ فہد ہسپتال کے قرنطینہ سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments