عمرہ پر گئے 300 پاکستانی سعودی عرب میں ہی محصور ہو کر رہ گئے

پاکستانی اور سعودی حکومت کی بین الاقوامی پروازوں پر پابندی کے باعث سینکڑوں پاکستانی زائرین وطن واپس نہیں آ سکے

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر مارچ 13:15

عمرہ پر گئے 300 پاکستانی سعودی عرب میں ہی محصور ہو کر رہ گئے
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23مارچ 2020ء) رواں ماہ کے دوران سعودی حکومت نے اپنی فضائی حدود تمام پروازوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم عمرہ زائرین کی واپسی کے لیے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی بین الاقوامی پروازوں کومزید 72 گھنٹے کی مہلت دی گئی تھی۔ جس کے باعث ہزاروں پاکستانی زائرین وطن لوٹ جانے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ابھی بھی تین سو پاکستانی سعودی عرب میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔

اُردو نیوز کی جانب سے جدہ میں پاکستانی قونصل جنرل خالد مجید کا خصوصی انٹرویو کیا گیا ، جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ عمرہ زائرین کے لیے چلائی گئی خصوصی پروازوں کے باوجود تین سو زائرین وطن واپس پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ خالد مجید کا کہنا تھا کہ پاکستان کی درخواست پر سعودی حکام نے عمرہ زائرین کی واپسی کے لیے خصوصی پروازیں چلانے کی اجازت دی تھی۔

(جاری ہے)

ان پروازوں کے ذریعے اب تک 14 ہزار 700 زائرین واپس جا چکے جبکہ 300 زائرین کے ٹکٹ ری شیڈول نہ ہونے کی وجہ سے وہ تاحال مملکت میں ہیں۔جنہیں عمرہ ٹور آپریٹرز اور سعودی وزارت حج نے مکہ اور جدہ کے ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’سعودی عرب میں سفری پابندیوں کے ساتھ پاکستان نے بھی اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر رکھی ہیں۔

ہم اسلام آباد سے رابطے میں ہیں، کوشش ہے ان زائرین کو خصوصی فلائٹ کے ذریعے ایک دو دن میں واپس بھیجا جائے‘۔قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ عمرہ زائرین کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ جدہ میں موجود افراد کے لیے اپنے وسائل سے کھانے پینے کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔قونصل جنرل کے مطابق عمرہ زائرین نے بعض ٹورآپریٹرز کے حوالے سے بھی شکایات کی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔تمام ٹور آپریٹرز خراب نہیں ہیں، کچھ کی سروسز بُری ضرور ہیں۔ قونصلیٹ حکام ان ٹور آپریٹرز کا ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ اس کی رپورٹ پاکستان میں متعلقہ اداروں کو بھیجی جائے گی‘۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments