سعودی مملکت میں کرفیو کے دوران آن لائن ٹیکسی سروس نہیں چلے گی

اوبر اور کریم کی جانب سے اپنے صارفین کو معذرت کا پیغام بھیج دیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل مارچ 11:07

سعودی مملکت میں کرفیو کے دوران آن لائن ٹیکسی سروس نہیں چلے گی
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24مارچ 2020ء) کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے گزشتہ روز سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جزوی کرفیو کا اعلان کیا تھا، جس کی مُدت اگلے 21 روز تک ہو گی۔ کل شام 7 بجے سے شروع ہونے والا جزوی کرفیو صبح 6 بجے ختم ہوا۔ اس حوالے سے سعودی عرب کی آن لائن ٹیکسی سروسز نے اہم اعلان کر دیا ہے۔ اوبر اور کریم کی جانب سے اپنے ڈرائیورز کو بذریعہ ایس ایم ایس آگاہ کیا گیا ہے کہ جزوی کرفیو کے اوقات میں مملکت بھر میں ٹیکسی سروس معطل رہے گی۔

سعودی اخبار عاجل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دونوں آن لائن کمپنیوں نے صارفین کو بھی اس حوالے سے معذرت کا پیغام دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 23 مارچ سے لے کر اگلے 21 روز تک شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک ٹیکسی سروس معطل رہے گی۔

(جاری ہے)

اوبر کمپنی نے اپنے ڈرائیورز کو ایس ایم ایس کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سعودی حکومت کی جانب سے مملکت بھر میں جزوی کرفیو نافذ کیا گیا ہے، حکام کی جانب سے ہمیں بھی ہدایت کی گئی ہے کہ شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک ٹیکسی سروس بند رکھی جائے۔

ہمارے پلیٹ فارم سے منسلک کوئی بھی ڈرائیور کرفیو کے اوقات میں کسی بھی سواری کو سفری سہولت فراہم نہ کرے، تاکہ قانون کی خلاف ورزی پر اس کی پکڑ نہ ہو سکے۔ اوبر کمپنی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی حکام کے جانب سے کرفیو کے دورانیے میں توسیع خارج از امکان نہیں ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پرکورونا وائرس کی روک تھام کے لیے آج سے ملک بھر میں رات کے کرفیو کا آغاز ہوگیا ہے. سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ مملکت میں رات سات بجے سے صبح چھے بجے تک نافذ کرفیو کی جو کوئی بھی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا،اس پر 10 ہزار ریال (2663 ڈالر) جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اگر کسی نے دوبارہ اس کی خلاف ورزی کی تو اس کو جیل کی ہوا کھانا پڑے گی اور ساتھ دُگنا جرمانہ ادا کرنا ہوگا.سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کرونا وائرس کی مہلک وبا کو مملکت میں پھیلنے سے روکنے کے لیے رات کو11 گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا ہے جوکہ 21 روز تک نافذ رہے گا۔

 

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments