سعودی عرب ملازمت کے خواہش مند پاکستانی، جعلسازاداروں سے ہوشیار رہیں

پاکستانی اوور سیز ایمپلائمنٹ کے ادارے نے ملازمتوں کے جعلی اشتہار دینے والوں کی نشاندہی کر دی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جولائی 12:10

سعودی عرب ملازمت کے خواہش مند پاکستانی، جعلسازاداروں سے ہوشیار رہیں
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 2 جولائی 2020ء) پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور کم آمدنی کے باعث پاکستانی نوجوان باہر کے مُلکوں کا رُخ کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی گنتی ہر سال سعودی عرب کا رُخ کرتی ہے کیونکہ ایک تو یہاں پر مقامات مقدسہ ہیں دوسرے پاکستانیوں کو نوکری کے معاملے میں ترجیح دی جاتی ہے۔اس وقت مملکت میں 25 لاکھ کے قریب پاکستانی تارکین وطن روزگار سے جُڑے ہیں۔

تاہم گزشتہ کئی سالوں سے نوجوانوں کو سعودی عرب لے جانے کا جھانسہ دے کر انہیں لُوٹنے والے درجنوں جعلساز افراد اور ادارے بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔ جولوگوں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں۔ پاکستانی وفاقی ادارے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوور سیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے سعودی عرب جانے کے خواہش مندوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ جعلسازوں سے ہوشیار رہیں۔

(جاری ہے)

بیورو کی جانب سے ایک اخبار اور فیس بک میں چھپنے والے اشتہارات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ ادارے جعلی ہیں، انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں ملازمتوں پر بھرتی کا کوئی ٹھیکہ یا اجازت نامہ نہیں دیا گیا۔ نوجوان ان اداروں سے ہرگز رابطہ نہ کریں۔
اگر کسی ریکروٹمنٹ ایجنسی کو سعودی عرب ملازمت کے لیے پیسے دے رہے ہیں تو اس سے قبل بیورو کی ویب سائٹ سے متعلقہ ملازمتوں کے حوالے سے تصدیق کر لیں۔

جعلساز زیادہ تر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر لوگوں کو سعودی عرب میں پُرکشش ملازمت کا جھانسہ دے کر ان کی رقم لُوٹ کر رُوپوش ہو جاتے ہیں۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ بیورو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لوگوں کو جھانسہ دینے والے ان دو اداروں کے خلاف غیر قانونی بھرتی کا کیس ایف آئی اے کو بھیج دیا گیا ہے۔ جن کا سکرین شاٹ بھی ساتھ میں دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بحرین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ملازمتوں کا جھانسہ دے کر پاکستانی نوجوانوں سے رقم اینٹھنے والے درجنوں جعلساز افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments