سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے نجی شعبے کے لیے مزید امدادی پروگراموں کا اعلان کر دیا

پروگرامز کے تحت نجی شعبے کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد دی جائے گی، اور نجی شعبے میں خالی اسامیوں پر اہل سعودی شہریوں کی بھرتی کروائی جائے گی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جولائی 11:19

سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے نجی شعبے کے لیے مزید امدادی پروگراموں کا ..
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 3 جولائی 2020ء) سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کرونا وائرس کی وَبا کے اقتصادی سرگرمیوں اور نجی شعبے پر مرتب ہونے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت کے مختلف امدادی پروگراموں میں توسیع کا حکم دیا ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق خادم الحرمین الشریفین کے اس فیصلہ کا مقصد سعودی عرب کے شہریوں ، نجی شعبے کے کاروباروں ،سرمایہ کاروں اور سعودی معیشت کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے نجی شعبے کے ملازمین کو مالی مدد ومعاونت مہیا کرنا ہے۔

شاہ سلمان نے پہلے سے نافذ العمل جن پروگراموں اور اقدامات میں توسیع کا حکم دیا ہے، ان کے مقاصد حسبِ ذیل ہیں:
کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے نجی شعبے کے کاروباروں میں برسرروزگار سعودی شہریوں کو مالی اعانت مہیا کرنا۔

(جاری ہے)

2۔ نجی شعبے کے کاروباروں کو امداد کے ذریعے ان کی اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کے قابل بنانا۔

نجی شعبے کے ملازمین کی اْجرتوں کی معطل کو روکنا۔
4۔ درآمدات پرواجب الادا کسٹم فیس کی وصولی میں 30 دن کی تاخیر۔ لیکن اس کی شرط یہ عاید کی گئی ہے کہ درآمد کنندہ کو بنک کی ضمانت دینا ہوگی۔
5۔ دستیاب عہدوں اور خالی اسامیوں پر اہل سعودی شہریوں کی بھرتی کی حوصلہ افزائی۔
6۔ صارفین کو ہفتے کے سات دن اور 24 گھنٹے خدمات کی دستیابی کو یقینی بنانا۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اعلان کے مطابق ایسے تمام غیر ملکی جن کے اقاموں کی مدت ختم ہو چکی، ان کیلئے فیملی فیس ایک ماہ کے لیے معاف کر دی گئی ہے۔

جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کیلئے مزید ایک ماہ کی فیس معاف کی جا سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے غیر ملکیوں کی فیملی فیس میں ایک ماہ کی معافی کی منظوری دی۔
سعودی فرمانروا نے مملکت میں موجود غیر ملکیوں کیلئے مزید ریلیف کا اعلان بھی کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ایکسپائرڈ اقامہ والے غیر ملکیوں کی فیملی فیس میں ضرورت پڑنے پر ایک ماہ بعد مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ موجودہ مشکل حالات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments